30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2862 -[29] وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ هَكَذَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ أَنَسٍ. وَالزِّيَادَة الَّتِي فِي المصابيح وَهُوَ قولُه: نهى عَن بيْعِ التَمْرِ حَتَّى تزهوَ إِنَّما ثبتَ فِي رِوَايَتِهِمَا: عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے انگور فروخت کرنے سے منع فرمایا حتی کہ سیاہ پڑ جائیں اور دانوں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ سخت پڑ جائیں ۱؎(ترمذی)ابوداؤد نے یوں ہی روایت کی ان دونوں کے ہاں حضرت انس کی روایت سے یہ نہیں ہے کہ چھوہاروں کی فروخت سے منع فرمایا تا آنکہ سرخ پڑ جائیں مگر حضرت عمر کی روایت سے فرماتے ہیں کہ حضور نے چھوہاروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ سرخ ہوجائیں ۲؎ اور ترمذی و ابوداؤد نے حضرت انس سے روایت کی اور وہ زیادتی مصابیح میں ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ چھوہاروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ سرخ ہو جائے یہ ان دونوں کی روایت میں حضرت ابن عمر سے ہے فرماتے ہیں کھجور کی تجارت سے منع فرمایا تا آنکہ سرخ پڑجائیں۳؎ ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔ |
۱؎ پھلوں کی تیاری مختلف صورتوں سے معلوم ہوتی ہے۔چنانچہ دانے والے سیاہ انگور کی تیاری اس پر سیاہی جھلکنے سے معلوم ہوتی ہے اور دانوں کی تیاری سختی سے محسوس ہوتی ہے کہ چٹکی میں دبانے سے سخت معلوم دے،ان علامات سے قبل نہ تو انگور قابل نفع مال ہے نہ دانے،ان کی بیع جائز نہیں کیونکہ بیع میں دو طرفہ مال چاہیے اور یہ دونوں چیزیں اس وقت مال نہیں۔
۲؎ یہ صاحب مصابیح امام بغوی پر اعتراض ہے کہ انہوں نے بحوالہ ترمذی و ابوداؤد حضرت انس کی روایت میں یہ جملہ بھی شامل کیا، حالانکہ یہ جملہ حضرت ابن عمر کی روایت میں ہے نہ کہ حضرت انس کی۔
۳؎ یہ امام بغوی پر دوسرا اعتراض ہے کہ انہوں نے حضرت انس کی روایت میں عَنْ بَیْعِ التَّمَرِ نقل کیا،حالانکہ یہ روایت عبداﷲ ابن عمر کی ہے اس میں بھی عَنْ بَیْعِ النَّخْلِ ہے نہ کہ عَنْ بَیْعِ التَّمَرِ۔خلاصہ حدیث یہ ہوا کہ کسی پھل کی بیع اس کی تیاری اور قابل انتفاع ہونے سے پہلے جائز نہیں اور ہر چیز کے قابل انتفاع ہونے کی علامتیں مختلف ہیں۔
|
2863 -[30] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم نهى عَن بيع الكالئ بالكالئ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ادھار کی بیع ادھار سے کرنے سے منع فرمایا ۱؎ (دارقطنی) |
۱؎ اس کی بہت صورتیں ہیں:ایک تو یہ ہے کہ بیع کے وقت نہ قیمت دی جائے،نہ مبیع پر قبضہ ہو یہ ناجائز ہے،جواز بیع کے لیے کم سے کم ایک طرف فی الحال قبضہ ضروری ہے،دوسری صورت یہ ہے کہ مثلًا زید کا عمرو پر دس گز کپڑا قرض تھا اور بکر کے عمرو پر دس روپے قرض تھے تو زید بکر سے کہے میں تیرے دس روپوں کے عوض اپنا وہ کپڑا فروخت کرتا ہوں جو میرا عمرو پر ہے،اب تم مجھ سے روپے نہ مانگنا بلکہ ان کے عوض عمرو سے کپڑا وصول کرلینا،بکر کہے مجھے قبول ہے یہ بیع ناجائز ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی کسی شخص سے کوئی چیز ادھار خرید لے جب اس ادھار کی مدت ختم ہو تو تاجر خریدار سے قیمت کا تقاضا کرے خریدار کہہ دے کہ فی الحال میرے پاس پیسے نہیں،مجھے ایک ماہ کی مہلت اور دے میں قیمت میں اتنا اضافہ کرتا ہوں،تاجر کہے منظور ہے حالانکہ اس چیز پر بھی قبضہ نہیں کیا گیا یہ بھی ممنوع ہے۔(لمعات واشعہ)خیال رہے کہ کالی کَلَاءٌ سے بنا بمعنی تاخیرو مہلت و حفاظت،رب فرماتاہے:"قُلْ مَنۡ یَّکْلَؤُکُمۡ بِالَّیۡلِ"۔
|
2864 -[31] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بیعانہ کی بیع کی بیع سے منع فرمایا ۲؎ (مالک،ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ ان کے دادا عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص ہیں،ان کی روایت میں ہمیشہ تدلیس ہوتی ہے کیونکہ خبر نہیں کہ جَدِّہٖ کی ضمیر عمرو کی طرف لوٹتی ہے یا اَبِیْہِ کی طرف۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع