دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۲؎  غرر یا تو غَرہ بالفتح سے بمعنی مجہول الانجام چیز یعنی خطرناک یا غِرہ بالکسر سے بنا بمعنی دھوکا،اسی سے غرور ہے۔بیع غرور کی بہت صورتیں ہیں:بیع منابذہ اور پتھر پھینکنے کی بیع وغیرہ بھی اس میں داخل ہیں،دریا میں مچھلی، ہوا میں اڑتے ہوئے پرندے ،بھاگے ہوئے غلام کی بیع سب بیع غرر ہیں۔ امام شافعی کے ہاں یہ بیع فاسد ہیں ہمارے ہاں کبھی فاسد،کبھی باطل۔خیال رہے کہ ہمارے ہاں فاسد وباطل بیع میں فرق ہے کہ بیع فاسد سے بعد قبضہ ملک حاصل ہوجاتی ہے،بیع باطل میں کبھی ملک حاصل نہیں ہوتی مگر امام شافعی کے ہاں دونوں بیعیں ایک ہی ہیں،اس کی مفصل بحث کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔

2855 -[22] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلَى أَنْ تُنتَجَ النَّاقةُ ثمَّ تُنتَجُ الَّتِي فِي بطنِها

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حمل کے حمل کی فروخت سے منع فرمایا ۱؎  یہ ایک تجارت تھی جس کا جاہلیت والے کاروبار کرتے تھے کہ ایک اونٹ خریدتا تا آنکہ اونٹنی بچہ دے پھر اس کے پیٹ کی بچی بچہ دے ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  اس جملہ شریف کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ حمل بیع یعنی کہ میری اونٹنی گیابھن ہے اس کے پیٹ کی بچی جب جوان ہو کر بچی دے گی اس کی بیع میں آج کرتا ہوں یہ بیع باطل ہے کہ معدوم چیز کی بیع ہے،نہ معلوم اونٹنی کے پیٹ میں مادہ ہے یا نر،دوسری یہ کہ کسی تجارت میں حمل کے حمل کی پیدائش سے اداء قیمت یا اداء سامان کی مدت مقرر کی جائے کہ اس کی قیمت میں جب دوں گا جب اس اونٹنی کے پیٹ کی بچی بچہ دے گی،یہ بیع فاسد ہے کہ وقت اداء مجہول ہے۔

۲؎ اس جملہ کی وہ ہی دو تفسیریں ہیں جو ابھی عرض کی گئیں کہ اونٹ خریدا مگر اس کی قیمت فلاں اونٹنی کی حمل کی بچی کے بچہ جننے پر دی جائے گی یا وہ ہی اونٹ خریدا ہے جو اس اونٹنی کے حمل کی بچی جنے گی،یہ بیع غرر ہے پہلی صورت میں فاسد ہے دوسری صورت میں باطل۔

2856 -[23]

وَعَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا ۱؎ (بخاری)

۱؎ عسب جانور کے نطفہ کو بھی کہتے ہیں اور نر کے مادہ پر چوٹ کرنے کو بھی اور اس عمل کی اجرت کو بھی،یہاں تمام معنے درست ہیں۔ یہ اجرت اکثر فقہاء کے ہاں حرام ہے،بعض نے جائز مانا ہے خلا ف مستحب تاکہ نسل منقطع نہ ہوجائے کہ بغیر اجرت کے نر والے اس پر راضی نہ ہوں گے تو نسل ہی ختم ہوجائے گی،اگر نر کو عاریۃً لے کر مادہ پر چوٹ کرائی گئی پھر بطور ہبہ نر والے کو کچھ دے دیا گیا یا خود نر کو کچھ کھلا دیا گیا تو بالاتفاق جائز ہے۔(لمعات و مرقات)ممانعت کی وجہ جہالت ہے کہ نہ معلوم نر کتنی بار چوٹ کرے اور نہ معلوم کہ مادہ حا ملہ ہو کہ نہ ہو،پنجاب میں بھینس کو تیار کرانے کی اجرت دو رپیہ ایک بار چھوڑنے کی لیتے ہیں،اس بار میں کتنے ہی بار جست کرے ایک بار یا دو بار۔

2857 -[24]

وَعَنْ جَابِرٍ: قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ وَعَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَالْأَرْضِ لِتُحْرَثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اونٹ کی چوٹ کی تجارت اور کھیتی کے لیے پانی اور زمین بیچنے سے منع فرمایا ۱؎(مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن