30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2853 -[20] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ: نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ والمُنابذَةِ فِي البيعِ وَالْمُلَامَسَةُ: لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الْآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ أَو بالنَّهارِ وَلَا يقْلِبُه إِلَّا بِذَلِكَ وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ بِثَوْبِهِ وَيَنْبِذَ الْآخَرُ ثَوْبَهُ وَيَكُونُ ذَلِكَ بَيْعَهُمَا عَنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلَا تَرَاضٍ وَاللِّبْسَتَيْنِ: اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَالصَّمَّاءُ: أَنْ يَجْعَلَ ثَوْبَهُ عَلَى أَحَدِ عَاتِقَيْهِ فَيَبْدُوَ أَحَدُ شِقَّيْهِ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ وَاللِّبْسَةُ الْأُخْرَى: احْتِبَاؤُهُ بِثَوْبِهِ وَهُوَ جَالِسٌ ليسَ على فرجه مِنْهُ شَيْء |
روایت ہے حضرت ابو سعیدخدری سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو پہناؤں سے منع فرمایا اور دو تجارتوں سے ۱؎ چھونے اور پھینکنے کی تجارت سے منع فرمایا ۲؎ اور چھونے کی بیع یہ ہے کہ ایک شخص کا دن رات میں دوسرے کا کپڑا اپنے ہاتھ سے چھولیناہے کہ سوا چھونے کے اور طرح نہ الٹے پلٹے۳؎ اور پھینکنے کی بیع یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کی طرف اپنا کپڑا پھینک دے اور دوسرا اس کی طرف اپنا کپڑا پھینک دے ان کی بیع ہوجائے بغیر دیکھے بھالے۴؎ اور بغیر آپس کی پسندیدگی کے،رہے دو ممنوع پہنائے ایک تو صماء پہناوا ہے صماء یہ ہے کہ اپنا کپڑا ایک کندھے پر اس طرح ڈالے کہ دوسری کروٹ کھلی رہے کہ اس کے اوپر کپڑا بالکل نہ ہو۵؎ اور دوسرا پہناوا اپنے کپڑے سے احتباءکرنا ہے جب کہ وہ بیٹھا ہو کہ شرمگاہ پر کپڑا بالکل نہ ہو ۶؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ لبستین لام کے کسرہ سے لبس بمعنی پہننے یا پوشش لبسۃ کا تثنیہ ہے یعنی دو پہناوے یا دو طرح لباس پہننا۔ بیعتین بیعۃ کا تثنیہ بمعنی فروخت،یہاں مطلقًا تجارت کے معنے میں ہے جس میں خریدو فروخت دونوں شامل ہیں ایسی بیع میں خریدار و تاجر دونوں گنہگار ہوں گے۔
۲؎ کہ ان دونوں صورتوں میں خریدار کو چیز دیکھنے کا موقعہ نہیں ملتا جس سے وہ مال کے عیب و خوبی پر مطلع نہیں ہوتا اور خریداری بعد اطلاع چاہیے۔
۳؎ اب بھی بڑے شہروں میں اس نامعقول بیع کا رواج ہے کہ دکان پر چیزیں پھیلی ہوئی ہیں،خریدار نے جس چیز پر ہاتھ لگادیا وہ بک گئی الٹ پلٹ کر دیکھنے کی اجازت نہیں،اس بیع میں اکثر دھوکا ہوتا ہے،خریدار لٹ جاتا ہے کہ چیز کا ظاہر اچھا ہوتا ہے اندرون خراب۔
۴؎ کپڑے سے مراد وہ کپڑا ہے جسے فروخت کرنا ہے یعنی کپڑا کپڑے کے عوض بیچنا ہے تو کوئی دوسرے کے کپڑے کو نہ دیکھے اپنا کپڑا یہ اس کی طرف پھینک دے اوروہ اس کی طرف یہ پھینک ہی بیع ہوجائے،یہ بھی اس لیے ممنوع ہے کہ اس میں دیکھ بھال کا موقعہ نہیں ملتا۔
۵؎ خیال رہے کہ صماء صم سے بنا بمعنی ٹھوس ہونا کہ کوئی سوراخ یا منفذ نہ ہو اس لیے سخت پتھر کو ضخرہ صماء کہتے ہیں یعنی ٹھوس چٹان اور سخت بند کی ہوئی سر بہمر شیشی قازویہ صمام کہتے ہیں۔اشتمال صماء کی دو تفسیریں ہیں: ایک یہ کہ انسان اپنے بدن پر از سرتاپا ایک کپڑا اس طرح مضبوط لپیٹ لے کہ ہاتھ پاؤں جکڑ جائیں کھلنا مشکل ہوجائے،یہ بھی ممنوع ہے۔ دوسری تفسیر وہ ہے جو یہاں مذکور ہے کہ جسم پر صرف ایک کپڑا ہو وہ بھی اس طرح اوڑھا جائے کہ آدھا بدن ننگا رہے کہ جب ایک کندھا کھلا ہے تو اس طرف کا سارا بدن کھلا رہے گا،چونکہ یہ ننگا پہناوا ہے اس لیے ممنوع ہے،طواف میں جو احتباءکرتے ہیں وہاں ستر نہیں کھلتا کیونکہ تہبند بھی بندھا ہوتا ہے۔
۶؎ احتباء اکڑوں بیٹھنے کو کہتے ہیں اس طرح کہ چوتر زمین پر لگے ہوں،دونوں گھٹنے کھڑے ہوں اور دونوں ہاتھ گھٹنوں کا حلقہ باندھے ہوں،اگر صرف ایک کپڑا اوڑھ کر احتباء کیا گیا ہو تو شرمگاہ برہنہ ہوجائے گی لہذا ممنوع ہے لیکن اگر تہبند بندھا ہو تو چونکہ ستر نہیں کھلتا لہذا جائز ہے۔وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ حضور انور کعبہ کے سایہ میں احتباء فرمائے بیٹھے تھے وہاں یہ دوسری صورت تھی لہذا یہ حدیث اس عمل شریف کے خلاف نہیں،دونوں حدیثیں حق ہیں۔(اشعۃ اللمعات وغیرہ)
|
2854 -[21] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنْ بيعِ الحصاةِ وعنْ بيعِ الغَرَرِ. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے پتھر پھینکنے کی بیع ۱؎ اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا ۲؎ (مسلم) |
۱؎ پتھرپھینکنے کی بیع کی تین صورتیں ہیں:ایک یہ کہ زمین کا خریدار مالک زمین سے کہے کہ میں پتھر پھینکتا ہوں جہاں میرا پتھر گرے وہاں تک کی زمین بعوض پانچسو روپیہ میری ہوگئی یہ ممنوع ہے۔دوسرے یہ کہ دکان پر مختلف چیزیں رکھی ہیں خریدار کہے کہ میں کنکر پھینکتا ہوں جس چیز پر کنکر لگ جائے وہ دو روپیہ کے عوض میری ہے۔تیسرے یہ کہ تاجر کہے میں کنکر پھینکتا ہوں جس چیز پر لگے وہ دو روپے کے عوض تیری یہ سب جاہلیت کی بیع تھیں،چونکہ ان میں دھوکا ہے اس لیے ممنع ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع