دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

2847 -[14] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَلَقُّوُا الرُّكْبَانَ لِبَيْعٍ وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمِنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظِرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يحلبَها: إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تمر "

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ: فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعهَا صَاعا من طَعَام لَا سمراء "

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تجارتی قافلے سے آگے ہی نہ جا ملو ۱؎ اور کوئی دوسرے کی خریداری پر خریداری نہ کرے ۲؎ اور نہ نرخ بڑھاؤ ۳؎ اور نہ شہری دیہاتی کے لیے تجارت کرے ۴؎ اور اونٹ و بکری کو نہ روکو ۵؎ پھر جو اس کے بعد جانور خریدے اسے دوھنے کے بعد دونوں میں سے بہتر چیز کا اختیار ہے ۶؎ اگر اس سے راضی ہو تو رکھ لے اور اگر ناراضی ہو تو اسے واپس کردے ایک صاع چھوہاروں کے ساتھ ۷؎ (مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جو روکی ہوئی بکری خریدلے تو اسے تین دن تک اختیار ہے پھر اگر اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ گندم کے سواء اور کوئی غلہ ایک صاع دے ۸؎

۱؎ یعنی تجارتی قافلے کی آمد سن کر شہر سے باہر ہی ان سے سامان نہ خرید لو،بلکہ انہیں بازار میں مال لے آنے دو تاکہ انہیں بازاری بھاؤ کی خبر ہوجائے اور ان کے بازار میں آمد سے نرخ ارزاں ہوجائے۔

۲؎  یہاں لفظ بیع بمعنی فروخت بھی ہوسکتا ہے اور بمعنی خرید بھی یعنی جب دو شخص کوئی چیز خرید و فروخت کررہے ہوں اور سودا طے ہو چکا اور قریبًا بات پختہ ہوگئی تو نہ تو کوئی شخص بھاؤ بڑھا کر وہ چیز خریدے اور نہ کوئی شخص بھاؤ سستا کرکے خریدار کو توڑے،یہ دونوں باتیں ممنوع ہیں،نیلام کا یہ حکم نہیں ہاں بولی دیتے وقت بات طے نہیں ہوتی جو بولی بڑھائے وہ لے لے یہ جائز ہے۔

۳؎  نیلام میں اگر کوئی شخص بولی بڑھادے مگر خریدنا مقصود نہ ہو صرف چیز کی قیمت بڑھانا مقصود ہو کہ دوسرا آدمی اس سے زیادہ کی بولی دے یہ نجش ہے اور ممنوع ہے کہ دھوکا دہی ہے۔

۴؎  اس طرح مال لانے والے دیہاتیوں کو آج کے بھاؤ پر مال فروخت نہ کرنے دے بلکہ اس کا مال خود سنبھال لے کہ جب مہنگا ہوگا فروخت کردوں گا،جیسا کہ آج کل بعض آڑھتی یا دلال کرتے ہیں ناجائز ہے کہ اس سے چیزیں مہنگی ہوتی ہیں بلکہ قحط پڑ جانے کا خطرہ ہوتا ہے باہر کا مال بکنے دو تاکہ مخلوق کو آرام رہے۔

۵؎ تصروا،ت کے پیش ص کے فتح سے،یا بالعکس ت کے فتح ص کے پیش سے۔(اشعہ)تصریہ سے بنا بمعنی دودھ تھن میں روک دینا،نہ نکالنا ایسے جانور کو مصرات کہتے ہیں یہ حرکت خریدار کو دھوکا دینے کے لیے کی جاتی ہے کہ وہ زیادتی دودھ سے دھوکا کھا کر قیمت زیادہ دے جائے۔

۶؎ یعنی اگر کسی نے دودھ کا جانور خریدا مگر دھوکا کھا گیا کہ خریدتے وقت تو دودھ زیادہ تھا بعد میں کم نکلا،تاجر نے کئی وقت سے دودھ نکالا نہ تھا اس لیے اس وقت دودھ بہت ہوا تو اب خریدار کو اختیار ہے۔

۷؎ یعنی اگر جانور رکھنا ہے تو خیر اور اگر رکھنا نہیں ہے تو اس دودھ کے عوض جو اس نے پیا ساڑھے چار سیرخرمے جانور فروخت کرنے والے کو دے دے،اس دودھ کے عوض جو خریدتے وقت جانور کے ساتھ لیا تھا کہ وہ تاجر کے مملوکہ جانور کا تھا لہذا تاجر کی ملک تھا۔اس حدیث کے ظاہر پر امام شافعی کا عمل ہے وہ فرماتے ہیں کہ وہ دودھ تھوڑا ہو یا زیادہ اس کے عوض ایک صاع چھوہارے ہی دیئے جائیں گے جیسے نفس کی دیت سو اونٹ ہیں کہ قاتل مقتول کی دیت سو اونٹ دے گا،نفس مقتول خواہ کیسا ہی ادنی یا اعلٰی ہو اور خریدار کو

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن