دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

2841 -[8]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَأَمَرَ بوضْعِ الجوائحِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے برسوں تک کی فروخت سے منع فرمایا ۱؎  اور آفتوں کے نقصانات وضع کردینے کا حکم دیا ۲؎ (مسلم)

۱؎ یعنی باغ کی چند بہاریں خریدنے سے منع فرمایا مثلًا خریدار مالک باغ سے کہے کہ میں تجھ سے اس باغ کی چھ سال تک کی بہاریں خریدتا ہوں،چونکہ یہ معدوم یعنی اس کی خریداری ہے جو ابھی پیدا بھی نہ ہوئی نہ مال بنی اس لیے ممنوع ہے اس ممانعت پر بھی سب کا اتفاق ہے۔

۲؎ یہ حکم بادشاہ وقت کو ہے کہ خراجی زمینوں کے خراج کی وصولی میں آفات کا خراج کم کردیں۔(طحاوی)اور ہوسکتا ہے کہ بائع کو حکم ہو یعنی اگر مالک باغ نے رسیدہ پھل فروخت کیے پھر بھی توڑنے سے پہلے کوئی آفت آگئی تو بہتر یہ ہے کہ بقدر نقصان قیمت کم وصول کرے اور اگر ساری قیمت لے چکا ہے تو بقدر نقصان واپس کردے،یہ حکم استحبابی ہے،اب بھی نیک لوگ اس پر عمل کرتے ہیں،حکام تباہی کی صورت میں لگان معاف یا کم کردیتے ہیں۔

2842 -[9]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حقٍ؟» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اگر تم اپنے کسی بھائی کے ہاتھ پھل بیچو ۱؎ پھر ان پر کوئی آفت آن پڑے تو تمہیں یہ حلال نہیں کہ اس سے کچھ بھی لو تم اپنے بھائی کا مال ناحق کیسے لے سکتے ہو ۲؎(مسلم)

۱؎ بھائی فرمانا مہربان بنانے کے لیے ہے ورنہ مسلمان کے ہاتھ باغ بیچے یا کافر کے ہاتھ حکم یہ ہی ہے جو آگے آرہا ہے یہ تقاضاء انسانیت ہے۔

۲؎  اگر قبضہ دینے سے پہلے پھل برباد ہوگئے تب تو ازروئے فتویٰ بائع کو قیمت لینا حرام ہے کہ جب خریدار کو کچھ دیا ہی نہیں تو قیمت کس کی لے رہا ہے اور اگر قبضہ دینے کے بعد ہلاک ہوئے تو ازروئے تقویٰ قیمت لینا حلال نہیں یعنی ٹھیک نہیں ایسے موقعہ پر رعایت کرنی چاہیے۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ فرمان عالی شان ڈرانے دھمکانے کے لیے ہے یا حدیث میں وہ صورت مراد ہے کہ پھل درستی سے پہلے فروخت کیے پھر وہ ضائع ہوگئے تو چونکہ وہ بیع ہی درست نہ تھی لہذا قیمت کیسی۔حضرت امام مالک کے ہاں رسیدہ پھل بھی ہلاک ہوجانے پر قیمت واپس کرنا واجب ہے،وہ اس حدیث سے ظاہری معنی پر عمل کرتے ہیں۔(مرقات)

2843 -[10]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ فِي أَعلَى السُّوقِ فيبيعُونَه فِي مكانهِ فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِهِ فِي مَكَانِهِ حَتَّى يَنْقِلُوهُ.رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَلم أَجِدهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ لوگ غلہ بازار کے اونچے حصے میں خریدتے تھے ۱؎ پھر اسی جگہ بیچ دیتے تھے ۲؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں اسی جگہ بیچ دینے سے منع فرمادیا حتی کہ اسے وہاں سے منتقل کردیں ۳؎(ابوداؤد)میں نے یہ حدیث بخاری میں نہ پائی۔

۱؎ بازار مدینہ میں ایک طرف سے لوگ آتے تھے دوسری طرف سے نکلتے تھے،آنے والے حصہ کو اعلٰی سوق کہتے تھے،جدھر سے تاجر مال کے اونٹ داخل کرتے تھے،نکلنے والے حصہ کو اسفل سوق یہاں وہ ہی مراد ہے ورنہ زمین مدینہ ہموار ہے وہاں اونچائی نیچائی نہیں۔

۲؎ بغیر قبضہ کیے ہوئے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن