دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

2839 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِي. مُتَّفِقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ وَعَنِ السنبل حَتَّى يبيض ويأمن العاهة

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے پھلوں کی تجارت سے انکی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے منع فرمایا ۱؎ تاجر کو بھی منع فرمایا اور خریدار کو بھی ۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی ایک روایت میں یہ ہے کہ سرخ ہونے سے پہلے کھجور کے پھل کی تجارت سے اور سفید پڑنے سے پہلے اور آفات سے امن سے پہلے بالیوں کی تجارت سے منع فرمایا ۳؎

۱؎ یعنی درختوں پر لگے ہوئے ان پھلوں کی تجارت سے منع فرمایا جو ابھی ناقابل نفع ہوں جن سے کوئی نفع حاصل نہ ہو سکے،بالکل کچے و نرم پھل جب سخت پڑ جائیں تو اگرچہ ابھی کچے ہوں ان کی بیع جائز ہے کہ ان سے نفع حاصل ہوسکتا ہے جیسے کچے آم،کھٹائی اچار،مربے میں کام آتے ہیں،کچی کھجوریں یعنی بسر کھائی جاتی ہیں۔معلوم ہوا کہ ناقابل نفع پھل مال ہی نہیں اور تجارت میں دو طرفہ مال چاہیے۔

۲؎  تاجر کو اس سے منع فرمایا کہ پھل ہلاک ہوجانے کی صورت میں وہ خریدار سے قیمت بغیر کچھ دیئے لے گا اور خریدار کو اس لیے منع فرمایا کہ ہلاکت کی صورت میں اس کا مال ضائع ہوجائے گا یہ بیع بالاتفاق ممنوع ہے،اس کی ممانعت میں حضرت عبداﷲ ابن عباس،جابر، ابوہریرہ،زید ابن ثابت،ابو سعید خدری،عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں۔

۳؎ یعنی گندم جو وغیرہ کی بالیاں سفید پڑنے سے پہلے اور کھجور وغیرہ پھل سرخ ہونے سے پہلے خطرہ میں ہوتے ہیں،بے وقت بارش آندھی وغیرہ سے برباد ہوسکتے ہیں اس لیے ان کی بیع نہ کرو،بالیاں سفید ہونے پر اور کھجوریں وغیرہ سرخ ہونے پر اگر جھڑ بھی جائیں تو کچھ نہ کچھ کام آجاتے ہیں ان کی بیع درست ہے،نیز دانہ کی بیع بالی میں درست ہے۔

2840 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن بيع الثِّمَارِ حَتَّى تَزْهَى قِيلَ: وَمَا تَزْهَى؟ قَالَ:حَتَّى تخمر " وَقَالَ: «أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ يَأْخُذ أحدكُم مَال أَخِيه؟»

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے پھلوں کی تجارت سے منع فرمایا حتی کہ وہ رنگ پکڑلیں ۱؎ عرض کیا گیا کہ رنگ پکڑنا کیا ہے فرمایا سرخ ہو جائیں فرمایا بتاؤ اگر اﷲ تعالٰی پھل روک لے تو تم سے کوئی اپنے بھائی کا مال کس کے عوض لے گا ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ صحیح یہ ہے کہ تَزْھِیَ،ضَرَبَ یَضْرِبُ،کا واحد مؤنث ہے نہ کہ باب افعال کا زھا یزھی عرب میں مستعمل ہے،نخل مذکر بھی ہے مؤنث بھی اس لیے اس کے صیغے مؤنث مذکردونوں آتے ہیں،قرآن شریف میں ایک جگہ ہے"نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ"دوسری جگہ ہے"نَخْلٍ مُّنۡقَعِرٍزھی یزھی زیادہ مستعمل ہے زھی یزھوکم۔

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ سوال حضور انو ر صلی اللہ علیہ و سلم سے کیا گیا اور جواب سرکار عالی نے دیا،حضرت انس اس سوال و جواب کہ ناقل ہیں،ممکن ہے یہ سوال حضرت انس سے کیا گیا ہو اور آپ نے یہ جوابًا تقریر فرمائی ہو۔خلاصہ یہ ہے کہ پھل سرخ پڑنے سے پہلے خطرہ میں ہیں،آفات سے برباد ہوسکتے ہیں بربادی کی صورت میں بائع خریدار سے قیمت کس چیز کے عوض لے گا۔

2841 -[8]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَأَمَرَ بوضْعِ الجوائحِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے برسوں تک کی فروخت سے منع فرمایا ۱؎  اور آفتوں کے نقصانات وضع کردینے کا حکم دیا ۲؎ (مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن