30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسے کچھ کھجوریں اس درخت میں لگے ہوئے پھل کے عوض دے کر باغ سے رخصت کردے اگرچہ یہ بھی مزابنہ بیع معلوم ہوتی ہے مگر درحقیقت تبدیل ہبہ ہے اس لیے جائز ہے اس کی اور تفسیر بھی ہے مگر یہ قوی ہے۔(اشعہ،مرقات،لمعات)
|
2837 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن بيعِ التمْر بالتمْرِ إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا |
روایت ہے حضرت سہل ابن ۱؎ ابی حثمہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تر کھجور چھوہاروں کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ۲؎ مگر عریہ کی اجازت دی کہ درخت کے پھل چھوہاروں کے عوض بیچے جائیں کہ عریہ والے تر کھجور کھا سکیں۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،انصاری ہیں، ۳ھ میں پیدا ہوئے،حضور انور کی وفات کے وقت آٹھ سال کے تھے، بعض محدثین نے فرمایا کہ آپ بیعت الرضوان میں شریک ہوئے اور احد و تمام غزوات میں حاضر رہے۔واﷲ اعلم!(اشعہ)
۲؎ تمر سے مراد تر کھجور ہے کہ اکثر تر میوہ کو ہی تمر یعنی پھل کہا جاتا ہے نہ کہ خشک کو،اس تمر سے مراد خشک چھوہارے ہیں،چونکہ تر کھجور سوکھ کر گھٹ جاتی ہے اور خبر نہیں کتنی گھٹے اس لیے اس میں سود کا احتمال ہے۔
۳؎ یہاں عریہ کی صورت یہ ہے کہ باغ والے نے کسی فقیر کو ایک درخت کے پھل خیرات دیئے یہ فقیر اتنے روز تک صبر نہیں کرسکتا کہ موسم بھر توڑتا رہے کھاتا رہے،دوسرے فقیر کے پاس خشک چھوہارے تھے اسے اور اس کے بچوں کو تر کھجوریں کھانے کا شوق تھا، چھوہارے والا فقیر چھوہارے کے عوض یہ کھجوریں خرید لے،اب درخت والے کو اکٹھے چھوہارے مل گئے اور چھوہارے والے کو تر کھجوریں اگرچہ یہ بیع مزابنہ ہوئی مگر فقراء کی حاجت روائی کے لیے جائز رکھی گئی۔مرقات میں ہے کہ جب بیع مزابنہ سے منع کیا گیا تو فقراء صحابہ بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم لوگ تر کھجوروں سے محروم ہوجائیں گے تب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بیع عریہ کی اجازت دی،معلوم ہوا حضور مالک احکام ہیں۔
|
2838 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ فِيمَا دُونَ خَمْسَة أوسق أَو خَمْسَة أوسق شكّ دَاوُد ابْن الْحصين |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بیع عرایا میں اجازت دی کہ پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک درخت کے پھل اندازًا چھوہاروں کے عوض بیچ دے ۱؎ داؤد ابن حصین نے شک کیا ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ اوسق وسق کی جمع ہے،وسق وہ پیمانہ ہے جس میں ساٹھ صاع پھل سماتے ہیں،ایک صاع قریبًا ساڑھے چار سیر ہوتا ہے،چونکہ باغ والے فقراء کو ایک دو درخت ہی عاریۃً دیا کرتے تھے جس میں اندازًا اتنی ہی کھجوریں ہوتی تھیں اس لیے اتنی ہی کی اجازت دی گئی۔
۲؎ یعنی اس حدیث کے اسناد میں داؤد ابن حصین بھی ہیں،عمرو ابن عثمان ابن عفان کے آزاد کردہ غلام،محدثین نے ان کے بارے میں اختلاف کیا،ابن معین کہتے ہیں وہ ثقہ تھے دیگر محدثین کے نزدیک غیر ثقہ،ابو حاتم کہتے ہیں کہ یہ تھے تو ضعیف مگر چونکہ امام مالک نے ان سے روایت لے لی اس لیے قوی ہوگئے۔(اشعہ)یعنی داؤد ابن حصین کو یاد نہ رہا کہ ان کے شیخ نے پانچ وسق فرمائے یا اس سے کم۔ حق یہ ہے کہ بیع عریہ پانچ وسق سے کم میں جائز ہے پانچ میں ناجائز اور یہ بیع صرف فقراء کریں امیر نہ کریں۔(مرقات و اشعہ) یہاں ایک فقہی معمہ بن جاتا ہے،بتاؤ وہ کون سی بیع ہے جو فقیر کرے امیر نہ کرے،وہ بیع عریہ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع