30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم دن میں سوتے یا رات میں سوتے یا بحالت سفر جنگل میں ہمیشہ قبر کے رخ پر لیٹتے تھے،داہنی کروٹ پر قبلہ رو ہو کر اور داہنا ہاتھ داہنے رخسارے کے نیچے ر کھتے اس طرح کہ ہاتھ کا کچھ حصہ سر کے نیچے بھی ہوتا تھا،اسطرح سونا سنت ہے اور یوں ہی دفن بھی کیا جائے تو بہتر۔
۲؎ یعنی قیامت اور بعد قیامت کے عذاب سے بچا کہ اصل عذاب تو وہی ہے،قبر کا عذاب یا نزع کے وقت کا عذاب تو اس عذاب کا پیش خیمہ ہے جو قیامت کے عذاب سے محفوظ ہوگا تو امید ہے کہ ان عذابوں سے بھی بچا رہے گا۔خیال رہے کہ مؤمن کو نزع کی شدت یا قبر کی وحشت عذاب نہیں گنہگار کے لیے عتاب ہے اور نیک کار کے لیے رحمت جیساکہ باب عذاب قبر میں عرض کیا گیا۔
|
2403 -[23] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعِهِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بناصيتهِ اللهُمَّ أَنْت تكشِفُ المغرمَ والمأْثمَ اللهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت علی سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے لیٹتے وقت کہتے تھے الٰہی میں تیری ذات کریم کی اور تیرے کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں ۱؎ اس کے شرارت سے تو جس کی پیشانی پکڑے ہے۲؎ الٰہی تو ہی قرض اور گناہ کو دور کرتا ہے ۳؎ الٰہی تیرا لشکر کبھی شکست نہیں پا تا تیرا وعدہ تیرے خلاف نہیں ہوتا۴؎ اور تیرے مقابل بختاور کو بخت نفع نہیں دیتا۵؎ توپاک ہے اور تیری ہی حمد ہے ۔(ابوداؤد) |
۱؎ وجہ سے مراد ذات باری تعالٰی ہے"کُلُّ شَیۡءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ اور کلمات الہیہ سے مراد اس کے اسماء و صفات ہیں یا آیات قرآنیہ،یا کُن فرمانا یعنی میں تیری ذات و صفات آیات کی پناہ لیتا ہوں،چونکہ یہ تمام چیزیں کامل ہیں نقصانات سے پاک اس لیے انہیں تامات فرمایا گیا۔معلوم ہوا کہ اﷲ کے مقبول بندوں خصوصًا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی پناہ لینا بھی جائز ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم بھی کلمات اﷲ ہیں،حضرت موسیٰ علیہ السلام کلیم اﷲ ہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کلمات اﷲ ہیں جیسا کہ"قُلۡ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ"کی تفسیر صوفیانہ میں ہے۔
۲؎ یعنی ساری موذی چیزیں تیرے قبضہ میں ہیں جسے تو بچانا چاہے اسے یہ موذی تکلیف نہیں دے سکتیں،پیشانی پکڑنے سے مراد قبضہ میں ہونا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ اِلَّا ہُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِہَا"۔
۳؎ ممکن ہے کہ قرض سے مراد اﷲ تعالٰی کے فرض ہوں جیسے وہ فرض واجب عبادات جو ادا نہ کی گئیں اور ماثم سے مراد وہ گناہ ہوں جو نہ کرنے تھے اور کر لیے گئے یا مغرم سے مراد وہ ناجائز قرض ہیں جن سے رب ناراض ہے جسے حرام کام میں خرچ کرنے کے لیے قر ض لینا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے قرض سے ا تنی پناہ مانگی ہے تو آپ پر قرض کیوں ہوتا تھا حتی کہ وفات کے و قت بھی آپ کی زرہ قرض میں گروی تھی۔بعض قرض ثواب ہیں اور بعض قرض گناہ،قرض گناہ سے پناہ مانگی۔(از مرقات مع زیار ت)یا قرض سے وہ قرض مراد ہے جو ادا نہ ہوسکے،حضور کے تمام قرض ادا ہوگئے حتی کہ حضور کے بعد صدیق اکبر نے ادا کیے۔
۴؎ اﷲ کے لشکر سے مرا دیا تو فرشتوں کا لشکر ہے یا جانوروں وغیرہ کا وہ لشکر جو عذاب دینے آئے جیسے فیل والوں پر ابابیل یا احزاب کے کفار پر ہوا لشکر یا طوفان نوحی میں پانی کا لشکر یا لشکر سے مراد مؤمن غازیوں کا لشکر ہے جو محض رضائے الٰہی کے لیے جہاد کرے کہ انجام کا رفتح اسی کی ہوتی ہے،رب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع