30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رحمۃ اﷲ علیہ سخت تیز دھوپ میں اپنے مقروض کی دیوار کے سایہ میں نہ کھڑے ہوئے دھوپ میں کھڑے رہے،عرض کرنے پر فرمایا کہ ڈرتا ہوں یہ سایہ سود نہ بن جائے۔
۲؎ کہ اب یہ ہدیہ قرض کی وجہ سے نہیں بلکہ پرانی دوستی کے سبب ہے،یہ ہی حکم حکام کے ہدایا اور دعوتوں کا ہے کہ وہ عام دعوتوں میں جاسکتے ہیں اور ان کے ہدیے اور خاص دعوتیں قبول کرسکتے ہیں جن کے سات حکومت ملنے سے پہلے ہی یہ تعلقات ہوں،حاکم بننے پر نہ کسی کی خاص دعوت کھائیں نہ ہدیے لیں کہ یہ بھی رشوت ہیں،لوگ دعوتیں اور ہدیے دے کر وقت پر اپنا کام نکالتے ہیں،ظلم کراتے ہیں۔
|
2832 -[26] وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَقْرَضَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَلَا يَأْخُذُ هَدِيَّةً» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَارِيخِهِ هَكَذَا فِي الْمُنْتَقى |
روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جب کوئی شخص کسی کو قرض دے تو اس سے ہدیہ قبول نہ کرے ۱؎(بخاری اپنی تاریخ میں)اسی طرح منتقیٰ میں ہے ۲؎ |
۱؎ خیال رہے کہ یہ ممانعتیں تنزیہی اور احتیاطی ہیں جن میں تقویٰ کا حکم دیا گیا ورنہ حقیقتًا سود وہ ہی ہے جس کی شرط لگائی جائے یا عرفًا مشروط ہو،امام مالک فرماتے ہیں کہ قرض خواہ اور حاکم ایسے ہدیے ہر گز قبول نہ کرے اور اگر قبول کرنا پڑ جائے تو اس کے عوض دے دے۔(مرقات مع زیادۃ)
۲؎ منتقیٰ بروزن مصطفی یا مجتبیٰ،حنبلی علماء میں سے ایک فقیہ عالم کی کتاب ہے جس میں فقہی مسائل کی ترتیب سے احادیث جمع کی گئی ہیں، اس کے مؤلف امام احمد ابن حنبل کے ساتھیوں میں سے کوئی صاحب ہیں۔ (اشعہ،لمعات،مرقات)
|
2833 -[27] وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: قدمت الْمَدِينَة فَلَقِيت عبد الله بن سلا م فَقَالَ: إِنَّك بِأَرْض فِيهَا الرِّبَا فَاش إِذا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تَبْنٍ أَو حِملَ شعيرِ أَو حَبْلَ قَتٍّ فَلَا تَأْخُذْهُ فَإِنَّهُ رِبًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت ابو بردہ ابن موسیٰ سے فرماتے ہیں میں مدینہ منورہ آیا ۱؎ تو حضرت عبداﷲ ابن سلام سے ملا آپ نے فرمایا تم اس جگہ رہتے ہو جہاں سود پھیلا ہوا ہے ۲؎ تو اگر تمہارا کسی پر کچھ حق ہو پھر وہ تمہیں بھوسے یا جو کا بوجھ دے ۳؎ یا چارے کا گٹھا دے تو ہر گز نہ لو کہ یہ سود ہے ۴؎ (بخاری) |
۱؎ حضرت ابوبردہ جناب ابو موسیٰ اشعری کے صاحبزادے تھے اور تابعین سے تھے،کوفہ کے قاضی القضاۃ مدینہ منورہ زیارت و سلام کے لیے حاضر ہوئے،اس زمانہ میں جو صحابہ کرام موجود تھے ان سے ملاقات کی،ان میں حضرت عبداﷲ ابن سلام بھی تھے،یہاں اس ملاقات کا واقعہ بیان فرمارہے ہیں۔
۲؎ یعنی عراق میں اب بھی سود کا لین دین عام ہے،بعض مسلمان بھی غلطی سے سود کا لین دین کرلیتے ہیں اسے سود سمجھتے ہی نہیں۔
۳؎ جو تم خود تو نہ کھاؤ گے اپنے جانوروں کو کھلاؤ گے وہ بھی قبول نہ کرو کہ وہ ملکیت میں تو تمہاری ہی آئے گا،پھر جو بھی کھائے مجرم تم ہو گے۔
۴؎ قَتٌّ ق کے فتح ت کے شد سے بمعنی ہرا چارہ جسے عربی میں رطب اور ابّ بھی کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اَبًّا مَّتٰعًا لَّکُمْ "مکہ معظمہ میں اسے ہرسوم کہا جاتا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ مقروض سے اپنے جانور کے لیے ہری گھاس بھی نہ لو کہ یہ بھی سود ہے۔اس سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع