دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۲؎ مُردے کے غلط اوصاف بیان کرکے بلند آواز سے رونا قولی نوحہ ہے جیسے ہائے میرے پہاڑ،ہائے گھوڑی کے سوار وغیرہ اور پیٹنا،بال نوچنا،کپڑے پھاڑنا،سینہ کوٹنا،ماتم کرنا،عملی نوحہ یہ تمام ہی لعنت کا باعث اور سخت ممنوع ہے،رب تعالٰی نے صبر کا حکم دیا ہے نہ کہ کپڑے پھاڑ نے اور چیخنے چلانے کا۔

2830 -[24]

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَتْ آيَةُ الرِّبَا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا لَنَا فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه والدارمي

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے کہ جو آخری آیت اتری وہ سود کی آیت ہے ۱؎  اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات پائی سود کی پوری تشریح نہ کی ۲؎ لہذا بچو سود سے بھی اور شک و شبہ سے بھی ۳؎(ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یعنی احکام کی آیات میں سب سے آخر سود کی آیت اتری،اس کے بعد احکام شرعیہ کی کوئی آیت نہ آئی لہذا یہ محکم ہے منسوخ نہیں،وہ آیت یہ ہے"اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا"لخ لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ سب سے آخری آیت"اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ"الخ ہے کہ مطلقًا آخری یہ آیت ہے اور معاملات و احکام آخری آیت سود کی آیت ہے۔

۲؎ یعنی حضور انور اس آیت کے نزول کے بعد بہت کم ظاہری حیات سے دنیا میں رہے اور جس قدر زمانہ حضور انور کو ملا وہ دوسرے اہم کاموں میں گزرا اس لیے اس آیت سود کی تفصیلی تفسیر نہ ہوسکی،صرف چھ چیزوں میں سود کی حرمت کی تفصیل فرمائی،نیز سود کی تفصیل قدرے واضح بھی تھی اور حضور انور نے چھ چیزوں کی تصریح فرما کر علماء امت کو قوانین سود کی رہبری بھی فرمادی تھی،اصول مقررکر دیئے تھے ان وجوہ سے تفصیل کی چنداں ضرورت نہ رہی تھی،پھر بعد میں علماء امت نے اس مسئلہ کو بھی بالکل واضح کردیا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ دین اسلام پورا واضح نہ ہوا کہ ایک مسئلہ مخفی رہ گیا،اصول تو اس کے بھی واضح ہوگئے،فروع مسائل بعد میں واضح ہوئے۔(از مرقات) ۳؎  یعنی جن چیزوں کی تصریح حضور انور نے فرمادی ان میں بھی سود نہ لو،ان کے علاوہ دیگر چیزوں میں بھی سود سے بچو،جن میں سود یقینی ہے ان میں بھی نہ لو،جہاں سود کا شک ہو وہاں بھی بچو،وہم کا اعتبار نہیں شک و وہم میں فرق ہے،دلیل سے پیدا ہونے والا شبہ شک کہلاتا ہے بلا دلیل شبہ وہم ہے۔

2831 -[25]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَي إِلَيْهِ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلَا يَرْكَبْهُ وَلَا يَقْبَلْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب تم میں سے کوئی کچھ قرضہ کسی کو دے پھر مقروض اسے کچھ ہدیہ دے یا اسے اپنے گھوڑے پر سوار کرے تو سوار نہ ہو نہ ہدیہ قبول کرے ۱؎ مگر اس صورت میں کہ ان دونوں کی آپس میں یہ رسم پہلے سے جاری ہو ۲؎ (ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)

۱؎ یعنی اگر قرض خواہ و مقروض میں پہلے سےہدیہ کے لین دین یا اور خدمات کا دستور نہ تھا،قرض لینے کے بعد مقروض ہدیہ لایا یا عاریۃً گھوڑا وغیرہ پیش کیا تو ظاہر یہ ہے کہ قرض کی وجہ سے وہ یہ سب کچھ کررہا ہے،اس میں بھی سود کا اندیشہ ہے کہ جو قرض نفع دے وہ سود ہے اور ہدیہ اور گھوڑے کی سواری بھی تو نفع ہی ہے،جو اس قرض کا باعث ہوا لہذا اس میں سود کا احتمال ہے،ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن