30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ خیال رہے کہ سود دو قسم کا ہے ایک زیادتی کا سود،دوسرے ادھار کا سود،زیادتی کے سود کی حرمت دو شرطوں پر موقوف ہے:ہم جنس ہونا،ہم وزن ہونا مگر ادھار کے سود کی حرمت صرف ایک شرط پر موقوف ہے یا ہم وزن ہونا یا ہم جنس ہونا لہذا سونے چاندی کی تجارت میں زیادتی حلال ہے کہ ایک تولہ سونا کے عوض چار تولہ چاندی لے لیں مگر ادھار حرام ہے،فورًا فریقین قبضہ کریں کسی طرف سے ادھار نہ ہو کہ سونا چاندی اگرچہ جنس الگ ہیں مگر وزن دونوں کا ایک ہے کہ دونوں تولہ ماشہ سے بکتے ہیں۔
۴؎ دونوں روایتوں میں فرق یہ ہے کہ وہاں مثلًا بمثلٍ تھا اور یہاں وزنًا بوزنٍ ہے جس سے معلوم ہوا کہ سونے چاندی میں برابری وزن سے کرنا ضروری ہے،پیمائش سے برابری کافی نہیں،مثلًا دو انچ کا چاندی کا پترا تین انچ چاندی کے پترے کے عوض فروخت کرنا جائز ہے اور دونوں کا وزن برابر ہو اگر دو طرفہ دو انچ کے پترے چاندی کے ہوں مگر ان کے وزن میں فرق ہو تو بیع حرام،وزن کا لحاظ ہے اور وزن ہی کی برابری ضروری ہے۔
|
2811 -[5] وَعَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنْتُ أسمع رَسُول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلاً بمثْلٍ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت معمر ابن عبداﷲ سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنتا تھا غلہ کی غلہ سے بیع برابر برابر کرو ا؎ (مسلم) |
۱؎ طعامٌ طعمٌ سے بنا بمعنی کھانا،طعام ہر کھانے کی چیز کو کہتے ہیں خواہ پھل ہوں یا دانے،اگر ہم جنس اور ہم وزن ہوں تو زیادتی حرام ہے،لینے کی چیزوں کو اسی پر قیاس کیا گیا ہے لہذا بھینس یا بکری کا دودھ،سرسوں یا تل کا تیل اگرچہ دو طرفہ ایک جنس ہوں تو زیادتی حرام،دو جنس ہوں تو زیادتی حلال لہذا ایک سیربھینس کے دودھ کے عوض دو سیر بکری کا دودھ یا ایک سیر سرسوں کے تیل کے عوض دو سیرتل کا تیل فروخت کرسکتے ہیں کہ جنس مختلف ہے۔
|
2812 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بالبُرَّ إِلَّا هَاء وهاء وَالشعِير بِالشَّعِيرِ رَبًّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وهاء» |
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے سونا سونے کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد ۱؎ چاندی چاندی کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد اور گندم گندم کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد اور جو جو کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد ۲؎ اورچھوہارے چھوہارے کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد ۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ ھَاءَ دراصل ھَاكَ تھا بمعنی خُذْ لے لے،اسم فعل ہے بمعنی امر،ک کو ہمزہ سے بدل دیا،معنی یہ ہیں کہ ایک دوسرے سے کہے یہ لے یعنی نقد،بعض نے فرمایا ھاء اسم فاعل بمعنی امر ہے،ہمزہ کو جر ہے یا فتح،معنی وہ ہی ہیں خُذْ یعنی لے لے،اس سے مراد نقد ہی ہے۔مطلب یہ ہے کہ جیسے ہم وزن ہم جنس میں زیادتی حرام ہے ایسے ہی ادھار بھی حرام ہے،دو طرفہ نقد ہونی چاہیے۔
۲؎ اس حدیث سے اشارۃً بیع تعاطی کا جواز نکلتا ہے کہ فریقین منہ سے کچھ نہ کہیں ایک قیمت دے دے دوسرا مال۔ حضرت سفیان ثوری ایک انار والے کی دکان پر گئے،آپ نے دکاندار کے سامنے درہم رکھ دیا اس نے ایک انار آپ کے سامنے رکھ دیا آپ انار اٹھا کر چلے آئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع