30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس لفظ سے خیار مجلس ثابت کرتے ہیں یعنی تاجرو خریدار جب تک اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائیں انہیں بیع رکھنے نہ رکھنے کا اختیار ہے مگر مذہب حنفی قوی ہے کیونکہ متبایعان دونوں عاقدوں کا نام ہے،عقد قول سے ہوتا ہے تو جدائی بھی قولی چاہیے نہ کہ بدنی۔
۳؎ اس جگہ خیار سے مراد شرط ہے یعنی ایجاب قبول کے بعد دونوں پر بیع لازم ہوجاتی ہے لیکن اگر کسی نے اپنے لیے واپسی کے اختیار کی شرط لگالی تو اسے تین دن تک واپسی کا حق رہے گا،مثلًا خریدار کہہ دے کہ میں قبول کرتا ہوں مگر تین روز تک مجھے چیز واپس کردینے کا حق ہے کہ اگر میرا دل نہ چاہا تو واپس کردوں گا،اب اگرچہ ایجاب و قبول ہوچکا مگرخریدار کو اس مدت میں واپسی کا حق ہے اس کا نام خیار شرط ہے۔
۴؎ یعنی جب دونوں میں سے ایک نے کہہ دیا کہ میں فروخت کرتا ہوں یا خریدتا ہوں تو دوسرے کو قبول کرنے نہ کرنے کا حق ہے اس حق کا نام خیار عقد ہے۔
۵؎ کہ اب دوسرے شخص کو اس کے خیار باطل کرنے کا حق نہ رہا،یہ خود اختیار باطل کرے یا نہ کرے۔وجب کا فاعل خیار ہے نہ کہ بیع اور اگر بیع ہی فاعل ہو تو معنی یہ ہوں گے کہ خیار شرط کی بیع میں دوسرے فریق پر بیع لازم ہوجائے گی اختیار اسے رہے گا جس نے اپنے لیے اختیار رکھا ہے۔
۶؎ بیعان سے مراد وہ ہیں جو بیع کرنا چاہتے ہوں یا بیع کررہے ہوں،وہ مراد نہیں ہیں جو بیع کرچکے ہیں جیسے عاقدین انہیں کہتے ہیں جو عقد کررہے ہوں نہ انہیں جو عقد کرچکے،یہ خوب خیال رکھیے اس لفظ سے دھوکا ہوتا ہے اس لفظ سے شوافع خیار مجلس ثابت کرتے ہیں،وہ معنی یہ کرتے ہیں کہ جو بیع شراء کرچکے وہ مختار ہیں۔
۷؎ یہ جملہ اویختار کی تفسیر ہے کیونکہ خیار شرط دونوں عاقدوں کے لیے نہیں ہو سکتا بلکہ ایک کو اختیار ہوگا دوسرے پر بیع لازم ہوگی جیسا کہ پہلے وجب سے معلوم ہوچکا۔
|
2802 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن حَكِيم بن حزَام قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُوِرَكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا» |
روایت ہے حضرت حکیم ابن حزام سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تاجرو خریدار مختار ہیں جب تک الگ نہ ہوں اگر سچ بولیں اور اصل بات ظاہر کردیں تو انہیں اس تجارت میں برکت ہوگی اور اگر جھوٹ بولیں اور چھپائیں تو ان کی تجارت کی برکت مٹادی جائے گی۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ حضرت خدیجہ کبریٰ کے بھتیجے ہیں،واقعہ فیل سے تیرہ سال پہلے خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے،ایک سو بیس سال کی عمر ہوئی،ساٹھ سال کفر میں گزارے،ساٹھ سال اسلام میں،زمانہ جاہلیت میں بڑے سخی تھے کہ آپ نے سو غلام آزاد کئے اور سو آدمیوں کو سواری دے کر حج کرائے اور جب خود حج کیا تو سو اونٹ قربانی کئے اور عرفہ میں سو سے زیادہ غلام آزاد کیے،بدر میں کفار کے ساتھ تھے،مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوئے پھر آزاد کئے گئے،فتح مکہ میں ایمان لائے ۵۸ ھ میں مقام زینت میں انتقال کیا۔(اشعہ)
۲؎ یعنی نہ تو فروشند ہ چیز کے عیب چھپا کر خریدار کو دھوکا دے،اور نہ خریدار قیمت کے عیوب چھپا کر تاجر کو دھوکا دے دونوں کے معاملات صاف ہوں تو برکت ہوگی ورنہ تجارت میں بے برکتی ہی رہے گی جیسا کہ آجکل دیکھا جارہا ہے۔
|
2803 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ فَقَالَ: " إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خلابة " فَكَانَ الرجل يَقُوله |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں خریدو فروخت میں دھوکا کھا جاتا ہوں فرمایا جب خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو دھوکا نہ ہو ۱؎ چنانچہ وہ صاحب یہ کہہ دیا کرتے تھے ۲؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع