30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2789 -[31] وَعَن ابنِ عُمَرَ قَالَ: مَنِ اشْتَرَى ثَوْبًا بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ وَفِيهِ دِرْهَمٌ حَرَامٌ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهَ صَلَاةً مَا دَامَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَقَالَ صُمَّتَا إِنْ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَقَالَ: إِسْنَادُهُ ضَعِيف |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں جو کوئی کپڑ ا دس درہم سے خریدے اور ان میں ایک درہم حرام ہو تو جب تک وہ کپڑا اس پر رہے گا اﷲ اس کی کوئی نماز قبول نہ کرے گا ۱؎ پھر آپ نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالیں اور فرمایا یہ بہرے ہوجائیں اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے نہ سنا ہو ۲؎ (احمد، بیہقی شعب الایمان)اور فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۔ |
۱؎ اور اس کا پورا ثواب نہ دے گا اگرچہ شرعًا اس کی نماز درست ہوگی،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِیۡنَ "۔صحت عبادت کا دارو مدار شرائط جواز پر ہے اور قبولیت تقویٰ پر موقوف ہے،تقویٰ صحت کی شرط نہیں،یہی اہلسنت کا مذہب ہے۔(مرقات)
۲؎ یعنی یہ میرا اپنا قول نہیں بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد عالی ہے اور حدیث موقوف نہیں بلکہ مرفوع ہے ایسے موقعہ پر اپنے لیے بددعا کرنا ایک طرح کی قسم ہے جس سے سامع کو یقین دلانا مقصود ہوتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع