دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

2785 -[27]

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ وَإِلَى مِصْرَ فَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ فَأَتَيْتُ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ فَجَهَّزْتُ إِلَى العراقِ فقالتْ: لَا تفعلْ مالكَ وَلِمَتْجَرِكَ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَبَّبَ اللَّهُ لِأَحَدِكُمْ رِزْقًا مِنْ وَجْهٍ فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَتَغَيَّرَ لَهُ أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں میں مصرو شام کی طرف سامان تجارت بھیجا کرتا تھا ایک بار عراق کی طرف مال بھیجنے لگا تو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا اے مسلمانوں کی مہربان ماں میں شام کی طرف مال بھیجا کرتا تھا اس دفعہ عراق بھیج رہا ہوں ۱؎ فرمایا یہ نہ کرو تمہیں اپنی پرانی منڈی سے نفرت کیوں ہوگئی ۲؎ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جب اﷲ تم میں سے کسی کے لیے کسی ذریعہ سے رزق کا سبب بنادے تو وہ اسے نہ چھوڑے حتی کہ سبب بدل جائے یا بگڑ جائے ۳؎(احمد،ابن ماجہ)

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ دنیاوی کاروبار میں بزرگوں سے مشورہ کرنا سنت صحابہ ہے،اس سے تجارت میں بزرگوں کا فیض بھی شامل ہوجاتا ہے۔یہ نافع حضرت عبداﷲ ابن عمر کے آزاد کردہ غلام ہیں،بڑے محدث ہیں،تابعی ہیں،حضرت ابن عمر کی وفات کے بعد بہت شاندار تجارت کرتے تھے۔

۲؎ یعنی جب تمہیں مصر و شام سے نفع بھی حاصل ہورہا ہے اور تمہاری تجارت بھی وہاں چمک رہی ہے تو تم وہاں سے متنفر کیوں ہوئے جاتے ہو۔

۳؎ شارحین فرماتے ہیں تغیرسے مراد بیوپار میں نفع نہ ہونا ہے اور تنکّر یعنی بگڑنے سے مراد گھاٹا اور نقصان ہونا ہے،یا تو یہ دونوں کلمات نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ہیں یا ام المؤمنین کو روایت میں شک ہوگیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے یَتَغَیَّرَ فرمایا یا یَتَنَکَّرَ۔مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے ذریعہ آمدنی کو بلاوجہ بند نہ کرے کہ اس میں رب تعالٰی کی ناشکری ہے بلکہ اس کی نعمت کا ٹھکرانا ہے،لگی نوکری بندھا کاروبار بلا وجہ مت چھوڑو۔اعلٰی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں جو شخص بلاوجہ پچاس روپیہ ماہوار کی نوکری چھوڑ دے گا تو ایک دن ایسا آئے گا کہ وہ پندرہ روپے کی نوکری تلاش کرے گا پر نہ ملے گی،ہاں اگر قدرتی طور پر بند ہوجائے تو پرواہ نہ کرے کہ اس صورت میں رب تعالٰی اس سے بہتر دروازہ کھول دے گا۔یہ حدیث بہت مجرب ہے جس کا خود فقیر نے بارہا تجربہ کیا،صوفیاء فرماتے ہیں۔ع         یک در گیر  محکم گیر

2786 -[28]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غُلَامٌ يُخْرِّجُ لَهُ الْخَرَاجَ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْكُلُ مِنْ خَرَاجِهِ فَجَاءَ يَوْمًا بشيءٍ فأكلَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ: تَدْرِي مَا هَذَا؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لِإِنْسَانٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا أُحسِنُ الكهَانةَ إِلاَّ أَنِّي خدَعتُه فلَقيَني فَأَعْطَانِي بِذَلِكَ فَهَذَا الَّذِي أَكَلْتَ مِنْهُ قَالَتْ: فَأَدْخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَقَاءَ كُلَّ شَيْءٍ فِي بَطْنه. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق کا ایک غلام تھا جو انہیں آمدنی دیتا تھا ۱؎ تو صدیق اکبر اس کی آمدنی کھاتے تھے وہ ایک دن کوئی چیزلایا جس میں سے ابوبکر صدیق نے کچھ کھالیا ۲؎ تب غلام نے عرض کیا کہ آپ جانتے ہیں جو یہ کیا ہے ابوبکر صدیق نے فرمایا کیا ہے وہ بولا میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کی فال کھولی تھی اور میں فال جانتا تھا نہیں میں نے تو اسے دھوکہ دیا تھا وہ آج مجھے ملا اور مجھے اس کے عوض یہ دی یہ وہی ہے جو آپ نے کھائی ۳؎ فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق نے ہاتھ ڈالا اور جو کچھ پیٹ میں تھا سب قے کردیا ۴؎(بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن