30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نفس امارہ کی شرارت ہے،نفس اگر دل پر غالب آجائے تو بہت پریشان کرتا ہے اور اگر دل نفس پر غالب ہو تو سبحان اﷲ یہ ہی حال عقل کا ہے۔
عقل زیر حکم دل یزدانی است جوز دل آزاد شد شیطانی است
اﷲ تعالٰی دل کو نفس و عقل پر غالب رکھے۔آمین !
|
2774 -[16] وَعَن وابصَةَ بن مَعْبدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا وَابِصَةُ جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَجَمَعَ أَصَابِعَهُ فَضَرَبَ صَدْرَهُ وَقَالَ: «اسْتَفْتِ نَفْسَكَ اسْتَفْتِ قَلْبَكَ» ثَلَاثًا «الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ والدارمي |
روایت ہے حضرت وابصہ ابن معبد سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے وابصہ تم نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھنے آئے ہوئے ہو میں نے عرض کیا ہاں ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضور انور نے اپنی انگلیاں جمع کرکے ان کے سینہ پر لگائیں اور تین بار فرمایا اپنے دل سے فتویٰ لے لیا کرو ۲؎ نیکی وہ ہے جس پر طبیعت جمے اور جس پر دل مطمئن ہو ۳؎ اور گناہ وہ ہے جو طبیعت میں چبھے اور دل میں کھٹکے اگرچہ لوگ اس کا فتویٰ دے دیں۴؎(احمد و دارمی) |
۱؎ یہ غیبی خبر ہے کہ حضرت وابصہ جو سوال دل میں لے کر آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے بغیر عرض کئے ہوئے ارشاد فرما دیا۔معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالٰی نے انہیں دلوں کے حال پر مطلع فرمایا ہے کیوں نہ ہو انہیں تو پتھروں کے دلوں پر اطلاع ہے کہ فرماتے ہیں احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے۔شعر
اے کہ ذات پاک تو صبح دھور چشم توبینندہ ما فی الصدور
۲؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت وابصہ کے سینہ پر ہاتھ رکھ کر ان کے قلب کو فیض دیا جس سے ان کا نفس بجائے امارہ کے مطمئنہ ہوگیا اور دل خطرات شیطانی وسوسوں سے پاک و صاف ہوگیا ۔صوفیاء کرام جو مریدوں کے سینے پر ہاتھ مار کر یا توجہ ڈال کر انہیں فیض دیتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث بھی ہے۔
۳؎ یعنی آج سے اے وابصہ گناہ اور نیکی کی پہچان یہ ہے کہ جس پر تمہارا دل و نفس مطمئنہ جمے وہ نیکی ہوگی اور جسے تمہارا دل و نفس مطمئنہ قبول نہ کرے وہ گناہ ہوگا،یہ حکم حضرت وابصہ کے لیے آج سے ہو گیا یہ حضور کے ہاتھ شریف کا اثر ہوا،ہم جیسے لوگوں کو یہ حکم نہیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ غیر مجتہد یعنی مقلد تو اپنے امام سے فتویٰ لے اور مجتہد اپنے دل سے۔
۴؎ یعنی عام لوگوں کے فتویٰ کا تم اعتبار نہ کرنا کیونکہ ان کے دلوں پر ہمارا ہاتھ نہیں پہنچا،اپنے دل و نفس کا فتویٰ قبول کرنا کہ تمہارے دل کا فتویٰ ہمارا فیصلہ ہوگا کہ ہمارا ہاتھ تمہارے دل پر ہے۔شعر
دل کرو ٹھنڈا مرا دوکفِ پاچاند سا سینہ پر رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود
آنکھ عطا کیجئے اس میں جِلا دیجئے جلوہ قریب آگیا تم پہ کروڑوں درود
خیال رہے کہ فتویٰ فتوٌ سے بنا بمعنی پیش آنا،حادث ہونایا قوت،چونکہ شرعی مسئلہ حادثات کے پیش آنے پر معلوم کیا جاتا ہے اور عالم کے حکم حاصل ہوجانے سے سائل کو قوت حاصل ہوجاتی ہے اس لیے مسئلہ شرعی کو فتویٰ کہا جاتا ہے۔
|
2775 -[17] وَعَن عطيَّةَ السَّعدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ المتَّقينَ حَتَّى يدَعَ مَا لَا بَأْسَ بِهِ حَذَرًا لِمَا بِهِ بأسٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وابنُ مَاجَه |
روایت ہے حضرت عطیہ سعدی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بندہ پرہیزگاروں میں سے ہونے کے مرتبہ کو نہیں پہنچتا حتی کہ مضائقہ والی چیزوں سے ڈرتے ہوئے غیر مضائقہ والی چیزوں کو چھوڑ دو ۱؎ (ترمذی،ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع