دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۵؎ خبیث کے معانی پہلے بیان کئے  گئے،یہاں یا گندگی کے معنے میں ہے یا حرام کے۔

2772 -[14]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نبَتَ منَ السُّحْتِ وكلُّ لحمٍ نبَتَ منَ السُّحْتِ كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ گوشت جنت میں نہ جائے گا جو حرام سے اُگا ہو ۱؎  اور جو گوشت حرام سے اُگے اس سے آگ بہت قریب ہے ۲؎(احمد، دارمی،بیہقی شعب الایمان)

۱؎ یعنی اولًا نہ جائے گا بلکہ سزا پانے کے بعد یا جنت کے درجہ عالیہ میں نہ جائے گا بلکہ ادنے درجہ میں۔گوشت سے مراد خود گوشت والا ہے اور اُگنے سے مراد پرورش پانا ہے یعنی جو شخص حرام کھا کر پلا وہ جنت میں کیسے جائے طیب جگہ طیب لوگوں کے لیے ہے۔

۲؎ یعنی حرام خور دوزخ کی آگ کا مستحق ہے کہ مرے اور آگ میں پہنچے کیونکہ اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ گندے لوگوں کے لیے گندی چیزیں ہیں،اگر یہ شخص توبہ کرے یا صاحب حق سے معاف کرالے یا شفاعت سے معافی ہوجائے تو ہوسکتی ہے۔یہ صورتیں اس قاعدہ سے علیحدہ ہیں۔(مرقات)

2773 -[15]

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى الدَّارِمِيُّ الْفَصْل الأول

روایت ہے حضرت حسن ابن علی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک یہ بات یاد کی ہے ۱؎ کہ اسے چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے ادھر رجوع کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے ۲؎ کیونکہ سچ اطمینان ہے اور جھوٹ تردد ہے ۳؎(احمد، ترمذی،نسائی)اور راوی نے پہلی چیز روایت فرمائی۔

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ آپ نے بلاواسطہ حضور سے یہ سنا اور یاد کیا کیونکہ حضور انور کی زندگی شریف میں امام حسن علیہ السلام قدرے سمجھدار تھے،بچوں کا حدیث سننا معتبر ہے جب کہ کچھ سمجھدار ہوں اور ہوسکتا ہے کہ آپ نے کسی صحابی سے سنا ہو،چونکہ یہ قول رسول تھا اس لیے اسے حضور کی طرف نسبت فرمادیا جیسے ہم کہہ دیتے ہیں کہ حضور نے یہ فرمایا یا ہمیں حضور کا یہ فرمان یاد ہے۔

۲؎ یعنی جو کام یا کلام تمہارے دل میں کھٹکے کہ نہ معلوم حرام ہے یا حلال اسے چھوڑ دو اور جس پر دل گواہی دے کہ یہ ٹھیک ہے اسے اختیار کرو مگر یہ ان حضرات کے لیے ہے جو حضرت حسن جیسی قوت قدسیہ و علم لدنی والے ہوں جن کا فیصلہ قلب کتاب و سنت کے مطابق ہو،عام لوگ یا جو نفسانی و شیطانی وہمیات میں پھنسے ہوں ان کے لیے یہ قاعدہ نہیں۔(مرقات و اشعہ)بعض لاپرواہ لوگ قطعی حراموں میں کوئی تردد نہیں کرتے اور بعض وہم پرست جائز چیزوں کو بلاوجہ حرام و مشکوک سمجھ لیتے ہیں ان کے لیے یہ قاعدہ نہیں ہے،لہذا حدیثیں واضح ہے۔

۳؎ یعنی مؤمن کامل کا دل سچے کام و سچے کلام سے مطمئن ہوتا ہے اور مشکوک اشیاء سے قدرتی طور پر متردد ہوتا ہے۔ یہاں لمعات میں فرمایا گیا کہ جب آیتوں میں تعارض معلوم ہوتا ہو تو حدیث کی طرف رجوع کرو اور حدیثیں بھی متعارض نظر آئیں تو اقوال علماء کو تلاش کرو اور اگر ان میں بھی تعارض نظر آئے تو اپنے دل سے فتویٰ لو اور احتیاط پر عمل کرو،یہ سارے احکام صاف دل اور پاکیزہ نفوس کے لیے ہیں۔(لمعات مختصرًا)اگر کسی کو جھوٹ سے اطمینان ہو اور گناہ سے خوشی ہو،نیکیوں سے دل گھبرائے تو وہ دل کی آواز نہیں بلکہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن