30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ پتلی نشہ آور چیز خواہ شراب انگوری ہو یا کھجور وغیرہ کی یا تاڑی یا کوئی اور چیز مطلقًا حرام ہے،نشہ دے یا نہ دے اس پر فتویٰ ہے،ان سب کی تجارت بھی حرام ہے۔خشک نشہ آور چیزیں جیسے بھنگ،افیون وغیرہ کا استعمال نشہ کے لیے حرام ہے اور دواؤں میں جب کہ یہ نشہ نہ دیں تو حلال لہذا ان کی بیع حلال ہے کہ ان سے انتفاع حلال بھی ہے۔مردار سے مراد وہ مرا ہوا جانور ہے جو بغیر ذبح کھایا نہیں جاتا لہذا مری مچھلی کی تجارت درست ہے،بتوں کی تجارت خواہ فوٹو کی شکل میں ہوں یا مجسم حرام ہے جیسے ہنومان،بھوانی،رامچندر وغیرہ کے مجسمے یا فوٹو ان کی تجارت حرام ہے،بچوں کے کھلونے گڑیاں وغیرہ کی تجارت حرام نہیں کہ یہ بت نہیں۔
۲؎ سائل کا مقصد یہ تھا کہ اگر مردار کی چربی کی تجارت یا اس کا استعمال بند کردیا گیا تو بہت سے ضروری کام بند ہوجائیں گے لہذا اس کی اجازت دی جائے۔
۳؎ یعنی مردار کی چربی کا استعمال حرام ہے(حنفی)یا اس کی تجارت حرام ہے(شافعی)احناف کے ہاں مردار کی چربی،صابن، چراغ یا چمڑوں میں استعمال کرنا حرام ہے،نجس تیل فروخت بھی کرسکتے ہیں اور ان مقامات میں استعمال بھی کرسکتے ہیں،کافر کی نعش بیچنا حرام ہے۔چنانچہ نوفل مخزومی جو غزوہ خندق میں مارا گیا تھا کفار نے دس ہزار درہم میں اس کی نعش کی قیمت پیش کی حضور نے انکار فرمادیا۔یوں ہی نجس شہد،نجس دودھ،نجس کھانا جانور کو کھلا دینا جائز ہے مگر مردار کی چربی ان میں سے کسی جگہ خرچ نہیں کرسکتے۔(مرقات و اشعہ) نجس تیل کا چراغ مسجد میں جلانا منع ہے۔ (لمعات و اشعہ)
۴؎ مشکوۃ کے عام نسخوں میں شحومھا واحد مؤنث کی ضمیرسےہے اس کامرجع میت ہے،بعض نسخوں میں شحومھما ہے تثنیہ کی ضمیر سے اس کا مرجع گائے بکری ہیں کہ ان کی چربیاں یہود پر حرام تھیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ مِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیۡہِمْ شُحُوۡمَہُمَاۤ"یعنی یہود پر مردار کی یا گائے بکری کی چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا اور قیمت استعمال کی بو لے کہ ہم نے شحم نہیں کھائی بلکہ پگھلی چربی کی قیمت کھائی ہے۔ معلوم ہوا کہ حرام کا حیلہ کرنا بھی حرام ہے،ہاں حرام سے بچنے کے لیے حیلہ کرنا اچھا ہے۔(لمعات،مرقات،اشعہ) مسلمان ضرورت پر حرام سے بچنے کا حیلہ کرتے ہیں۔
|
2767 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فجملوها فَبَاعُوهَا» |
روایت ہے حضرت عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہود کو خدا غارت کرے ۱؎ ان پر چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر بیچا ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ کلمہ بددعا کے لیے ہے یا اظہار غضب کے لیے،اس میں مسلمانوں کو بتایا جارہا ہے کہ تم نے مردار کی چربی اس طرح استعمال کی تو تم بھی میری بددعا کے مستحق ہوگے اس سے سخت پرہیز کرو۔
۲؎ یہود کچی چربی کو شحم اور پگھلی ہوئی کو ودک کہتے تھے،انہوں نے کہا ہم پر شحم حرام ہے ودک حرام نہیں پھر ہم ودک بھی نہیں استعمال کرتے بلکہ اس کی قیمت کام میں لاتے ہیں۔خیال رہے کہ مردار کی کھال پکا کر کام آسکتی ہے مگر چربی پگھلا کر بھی کام نہیں آسکتی،اس حدیث میں چربی کا یہ ہی حکم بتانا مقصود ہے۔
|
2768 -[10] وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کتے اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا ۱؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع