30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ مہر بغی سے مراد زانیہ کی اجرت زنا ہے اور کاہن کی مٹھائی سے مراد اس کے فال کھولنے غیبی باتیں بتانے یا ہاتھ دیکھ کر تقدیر بتانے کی اجرت ہے،چونکہ یہ اجرت بغیر محنت حاصل ہوجاتی ہے اس لیے اسے مٹھائی فرمایا،یہ دونوں اجرتیں بالاتفاق حرام ہیں کہ یہ دونوں کام حرام لہذا ان کی اجرت بھی حرام۔
|
2765 -[7] وَعَن أبي حجيفة أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَكَسْبِ الْبَغِيِّ وَلَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْمُصَوِّرَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوجحیفہ سے ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خون کی قیمت کتے کی قیمت اور زانیہ کی کمائی سے منع فرمایا۲؎ اور سود کھانے والے اور کھلانے والے ۳؎ اور گودنے والی اور گدوانے والی ۴؎ اور فوٹو لینے والے پر لعنت فرمائی ۵؎ (بخاری) |
۱؎ آپ کم عمر صحابہ سے ہیں،حضور انور کی وفات کے وقت نابالغ تھے لیکن حضور انور سے کلام مبارک سنا ہے،کوفہ میں مقیم رہے۔
۲؎ خون کی قیمت سے مراد یا تو خون نکالنے کی اجرت ہے یعنی فصد کھولنا یا خود خون کی قیمت ہے،خون نجس ہے کسی کا ہو انسان کا یا جانور کا اس کی قیمت حرام ہے خون کی بیع ہی حرام ہے کہ خون نجس ہے۔آج کل جو آدمیوں کا خون خریدا جاتا ہے یا دوسرے آدمی میں داخل کیا جاتا ہے سب حرام ہے کہ انسان کے اجزا کی فروخت اور دوسرے کا استعمال کرنا ممنوع ہے،ہاں اگر طبیب حاذق کہے کہ اس بیمار کی شفا خون داخل کرنے کے سواء اور کسی چیز سے نہیں تو ایسا ہی جائز ہوگا کہ جیسا کان کے دردمیں کبھی عورت کا دودھ کان میں ٹپکانا درست ہوتا ہے جیساکہ علامہ شامی وغیرہ نے فرمایا۔
۳؎ سود لینا دینا دونوں حرام ہیں اور باعث لعنت اگرچہ سود لینا زیادہ جرم ہے کہ اس میں گناہ بھی ہے اور مقروض پر بلکہ اس کے بچوں پر ظلم بھی،گویا حق اﷲ حق العباد دونوں اس میں جمع ہیں۔
۴؎ گود نے گدوانے سے مراد سوئی کے ذریعہ نیل یا سرمہ جسم میں لگاکرنقش و نگار کرانا یا اپنا نام لکھوانا یہ دونوں کام ممنوع ہیں،طریقہ مشرکین ہیں اور طریقہ کفاروفجار۔
۵؎ جاندار کا فوٹو لینا حرام ہے خواہ قلم سے ہو یا کیمرہ سے۔فوٹو لینے والے پر لعنت فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھوانے والے پر لعنت نہیں فرمائی،اگر کسی کا بے خبری میں فوٹو لے لیا گیا تو ظاہر ہے کہ وہ بے قصور ہے اور اگر عمدًا کھچوایا تو کھچوانا ممنوع ہے کہ یہ جرم پر امداد ہے۔
|
2766 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: «إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ» . فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ؟ فَإِنَّهُ تُطْلَى بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ؟ فَقَالَ: «لَا هُوَ حَرَامٌ» . ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ» |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فتح کے سال جب آپ مکہ معظمہ میں تھے فرماتے سنا کہ اﷲ اور اس کے رسول نے شراب مردار،سور اور بتوں کی تجارت کو حرام کیا ۱؎ عرض کیا گیا یارسول اﷲ مردار کی چربیوں کے متعلق تو فرمایئے ان سے تو کشتیاں ملی جاتی ہیں ان کی کھالیں روغنی جاتی ہیں لوگ ان سے چراغ جلاتے ہیں ۲؎ تو فرمایا نہیں وہ حرام ہے ۳؎ پھر اس موقعہ پر فرمایا یہود کو خدا غارت کرے جب اﷲ نے مردار کی چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی ۴؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع