30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2761 -[3] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ أَمِنَ الْحَلَالِ أم من الْحَرَام» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگوں میں ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان پرواہ نہ کرے گا کہاں سے لیا حلال سے یا حرام ۱؎ (بخاری) |
۱؎ یعنی آخر زمانہ میں لوگ دین سے بے پرواہ ہوجائیں گے،پیٹ کی فکر میں ہر طرح پھنس جائیں گے،آمدنی بڑھانے مال جمع کرنے کی فکر کریں گے،ہر حرام و حلال لینے پر دلیر ہوجائیں گے جیساکہ آج کل عام حال ہے ۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ ایسا بے پرواہ آدمی کتے سے بدتر ہے کہ کتا سونگھ کر چیز منہ میں ڈالتا ہے مگر یہ بغیرتحقیق بلا سوچے سمجھے ہی چیز کھالیتا ہے۔
|
2762 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشبهاب استبرَأَ لدِينهِ وعِرْضِهِ ومَنْ وقَعَ فِي الشبُّهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُله أَلا وَهِي الْقلب» |
روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ شبہ کی چیزیں ہیں جنہیں بہت لوگ نہیں جانتے ۲؎ تو جو شبہات سے بچے گا وہ اپنا دین اور اپنی آبرو بچالے گا اور جوشبہات میں پڑے گا وہ حرام میں واقع ہو جائے گا۳؎ جیسے جو چرواہا شاہی چراگاہ کے آس پاس چرائے تو قریب ہے کہ اس میں جانور چرلیں ۴؎ آگاہ رہو کہ ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور اﷲ کی مقررکردہ چراگاہ اس کے محرمات ہیں،آگاہ رہو کہ جسم میں ایک پارہ گوشت ہے جب وہ ٹھیک ہوجائے تو سارا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے تو تمام جسم بگڑ جاتا ہے،خبردار وہ دل ہے ۵؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ بُشَیْر بروزن زُبَیْر ہے،آپ بہت خورد سال صحابی ہیں،ہجرت سے چودہ ماہ بعد پیدا ہوئے،آپ انصار میں پہلے بچہ ہیں جو پیدا ہوئے جیسے مہاجرین میں اول حضرت عبداﷲ ابن زبیر پہلے بچے ہیں،حضور کی وفات کے وقت آٹھ سال سات ماہ کے تھے،کوفہ میں قیام رہا، امیرمعاویہ کی طرف سے عراق کے حاکم تھے،جب حضرت امام حسین نے مسلم ابن عقیل کو کوفہ بھیجا تو آپ اس وقت یزید ابن معاویہ کی طرف سے کوفہ کے حاکم تھے،آپ نے حضرت مسلم سے کوئی تعرض نہ کیا اس لیے یزید نے آپ کو معزول کردیا اور عبید اﷲ ابن زیاد کو مقرر کیا،جب سر مبارک امام حسین کو کوفہ سے شام بھیجا گیا اس وقت اہل بیت پر یہ ہی نعمان مقرر تھے،آپ نے راہ میں اہل بیت کی بہت خدمات انجام دیں اور اہل بیت اطہار نے آپ کو بہت دعائیں دیں،رضی اللہ عنہ۔(اشعہ)
۲؎ یہ حدیث اصل اصول دین ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ چیزیں تین قسم کی ہیں:بالکل حلال جن کی حلت منصوص ہے،بالکل حرام جن کی حرمت منصوص ہے جیسے محرمات و فواحش اور مشتبہات جن میں حلت و حرمت کے دلائل متعارض ہیں یا حلت و حرمت کی دلیل نہیں،اصل حلال پر عمل کرو،اصل حرام سے ضرور بچو اور مشتبہات سے احتیاطًا پرہیزکرو کہ شاید حرام ہوں مگر جن میں حلت کی اصل موجود ہو وہ مشتبہ نہیں،انہیں حرام سمجھنا محض باطل وہم ہے لہذا یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ میلاد شریف عرس بزرگانِ دین کو بعض علماء حرام بھی کہتے ہیں لہذا یہ مشتبہات سے ہے۔ (از مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع