دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

بھی عبادت ہے مگر ایمان کے ساتھ،اس صورت میں یہ کلام عالی اس کے کلام کی تردید ہے،یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے کلام کی تائید ہو یعنی ہاں شہادت فی سبیل اﷲ مدینہ کی موت و دفن سے افضل ہے اگر کسی کو شہادت میسر نہ ہو تو مدینہ میں مرنے کی کوشش کرے۔(اشعہ)مگر یہ معنے کچھ بعید سے ہیں پہلے معنے قوی تر۔

۶؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آخری جملہ تین بار فرمایا کہ مجھے زمین مدینہ میں دفن ہونا اس قدر پیارا ہے کہ اور جگہ کی شہادت بھی اتنی پیاری نہیں،میں یہاں کا دفن بہت ہی پسند کرتا ہوں۔بعض علماء نے اس حدیث کی بنا پر چند مسائل فرمائے:ایک یہ کہ مدینہ منورہ مکہ معظمہ سے افضل ہے۔دوسرے یہ کہ مدینہ منورہ کی موت مکہ معظمہ کی موت سے بہتر ہے(اس پر تو تمام امت کا اجماع ہے)۔تیسرے یہ کہ مدینہ منورہ میں جینا مکہ معظمہ میں جینے سے   بہتر ہے ۔ چوتھے یہ کہ مدینہ پا ک کی موت دوسری جگہ   شہادت فی سبیل اللہ سے اعلی ہے۔پانچویں   یہ کہ مدینہ منورہ میں حضر کی موت دوسری  جگہ سفر و غربت کی موت سے اعلی ہے ،بعض روایات سے شہادت ا ور غربت کی موت کی افضلیت ثابت ہے وہ افضلیت جزوی ہوگی اور یہ افضلیت کلیہ ہے لہذا ان میں تعارض نہیں اور اگر مدینہ منورہ میں شہادت و غربت کی موت نصیب ہوجائے تو پوچھنا ہی کیاجیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نصیب ہوئی،اللہم ارزقنا الموت فی بلد حبیبك صلی اللہ علیہ وسلم۔(مرقات)

۷؎ کیونکہ یحیی ابن سعید تابعین میں سے ہیں جنہوں نے انس ابن مالک سائب ابن یزید اور بہت سے صحابہ کرام سے ملاقات و روایات کیں اور ان سے ہشام ابن عروہ،مالک ابن انس،شعبہ ثوری،ابن عیینہ، ابن مبارک وغیرہ بزرگوں نے روایات کیں۔تابعی اگر صحابی کا ذکر نہ فرمائیں تو حدیث مرسل ہوتی ہے لہذا یہ حدیث مرسل ہے اور ثقہ تابعی کا ارسال قبول ہے جیسے امام بخاری کی تعلیق معتبر ہے۔ خیال رہے کہ یہ یحیی ابن سعید انصاری ہیں اور یحیی ابن سعید قطان دوسرے بزرگ ہیں جو آئمہ محدثین سے ہیں وہ یہاں مراد نہیں۔ (مرقات واشعہ)

2758 -[31]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْعَقِيقِ يَقُولُ: أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ ". وَفِي رِوَايَة: «قل عُمرةٌ وحِجّةٌ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا حضرت عمر ابن خطاب نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا جب کہ آپ عقیق کے میدان میں تھے ۱؎ کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کوئی آنے والا آیا اس نے کہا کہ آپ اس مبارک جنگل میں نماز پڑھیں اور فرمائیں عمرہ حج میں ہے ۲؎  ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایئے عمرہ اور حج۔(بخاری)

۱؎ وادی عقیق مدینہ منورہ کے قریب ذوالحلیفہ سے متصل ایک میدان ہے بہت متبرک یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے اور وادی عقیق ذات عرق کے پاس ایک جنگل کا بھی نام ہے وہ یہاں مراد نہیں۔

۲؎ اگر یہ واقعہ سفر حج کا ہے تو نماز سے مراد کوئی اور نفل نماز ہے نہ کہ احرام کی نماز کیونکہ حضور انور نے وادی عقیق سے احرام نہ باندھا تھا بلکہ ذوالحلیفہ سے اور قُل الخ سے تلبیہ فرمانا ہے یعنی آپ اس جنگل میں نفل نماز بھی پڑھیں اور تلبیہ بھی کہیں جس میں یہ الفاظ ہوں کہ یہ عمرہ مع حج کے ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ تمتع اور افراد سے قران افضل ہے اور اگر کسی اور سفر کا واقعہ ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ آپ یہاں نماز پڑھیں اور لوگوں سے فرمادیں کہ یہاں کی نماز حج و عمرہ کے برابر ثواب رکھتی ہے جب بھی قران کی افضلیت ثابت ہے۔


 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن