دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

میں دوگنا لہذا حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں کہ مکہ معظمہ میں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ ہے اور مدینہ منورہ میں۵۰ ہزار مدینہ پاک کی رزق کی برکتیں تو آج بھی آنکھوں دیکھی جارہی ہیں کہ وہاں پھل فروٹ میسر ہوتے ہیں اور وہاں کی آب و ہوا ایسی پیاری ہے کہ مکہ مکرمہ کی نہیں۔فیصلہ عشق یہ ہے کہ مکہ معظمہ کی عبادت کا ثواب زیادہ اور مدینہ پاک کی عبادات کا قرب زیادہ،درجہ اعلٰی لہذا برکت قرب و درجہ مدینہ پاک میں دوگنا ہے برکت ثواب مکہ معظمہ میں دوگنا،دونوں حدیثیں درست و صحیح ہیں۔

2755 -[28]

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ زَارَنِي مُتَعَمِّدًا كَانَ فِي جِوَارِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَكَنَ الْمَدِينَةَ وَصَبَرَ عَلَى بَلَائِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا وَشَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بَعَثَهُ اللَّهُ مِنَ الْآمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَة»

روایت ہے اولاد خطاب کے ایک مرد سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو قصدًا میری زیارت کرے وہ قیامت کے دن میری امان میں ہوگا ۱؎ اور جو مدینہ منورہ میں رہے اور یہاں کی تکالیف پر صبر کرے میں قیامت کے دن اس کا شفیع اور گواہ ہوں گا ۲؎ اور جو دونوں حرم سے کسی حرم میں مر جائے وہ قیامت کے دن امن والوں سے ہوگا۳؎

۱؎ اس جملہ کے علماء نے اور معنے کیے ہیں عشاق نے کچھ اور۔علماء فرماتے ہیں کہ جو مدینہ منورہ صرف روضہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت کی نیت سے جائے،نام نمود یا کوئی تجارتی کاروبار دنیاوی کام مقصود نہ ہو وہ قیامت میں حضور کا پڑوسی اور حضور کی امان میں ہوگا۔ مسجد نبوی کی زیارت بقیع اور مسجد قبا کی حاضری اسی کے تابع ہو،اصل مقصود حاضری بارگاہ عالی ہو جیسے نفل نماز میں اصل مقصود رضاءالٰہی ہے مگر کبھی قضاء حاجات اداءشکر،تحیۃ الوضو وغیرہ بھی اس سے ادا ہوجاتے ہیں مگر تبعًا لیکن عشاق کہتے ہیں کہ مدینہ پاک کی حاضری میں مسجد نبوی شریف جنت البقیع وغیرہ کی حاضری کی بھی نیت نہ کرے بلکہ بعض عشاق تو حج کے سفر میں مدینہ پاک حاضر نہ ہوئے بلکہ مدینہ کے لیے علیحدہ مستقل علیحدہ سفر کیا اور اس حدیث کو بالکل ظاہری معنے پر محمول فرمایا۔مدینہ پاک کی حاضری صرف زیارت کے لیے ہو۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ وہاں کی حاضری صرف مسجد نبوی کی نماز کی نیت سے ہو،زیارت کی نیت نہ ہو معاذ اﷲ! مسجدیں تو دنیا میں ہزار ہا ہیں اس مسجد کی عظمت زیادہ کیوں ہے ؟صرف حضور کے دم قدم سے۔اس سے معلوم ہوا کہ قیامت میں حضور کی امان ہی کام آئے گی۔اس سے وہ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ خدا کے سوا کسی کی امان نہیں۔(از مرقات ولمعات وا شعہ)

۲؎ یعنی تا قیامت اور خصوصًا میرے حیات شریف کے زمانہ میں جو مدینہ پاک کی ظاہر تکالیف پر صبر کرجائے اسے کل قیامت میں میری خاص شفاعت میسر ہوگی جو دوسروں کو نصیب نہ ہوگی۔

۳؎ یعنی مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں مرنے والا قیامت کی بڑی گھبراہٹ جسے فزع اکبر کہتے ہیں،اس سے محفوظ رہے گا مگر یہ فوائد مسلمانوں کے لیے ہیں لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ ابوجہل وغیرہ کفار بھی وہاں ہی مرے۔

2756 -[29]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا: «مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَياتِي» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے مرفوعًا کہ جو میری وفات کے بعد حج کرے پھر میری قبر کی زیارت کرے ۱؎  وہ اسی طرح ہوگا جو میری زندگی میں میری زیارت کرے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن