30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ تیس چالیس سال سے مدینہ منورہ میں ہیں،حدود مدینہ بلکہ شہر مدینہ سے بھی باہر نہیں جاتے اسی خطرہ سے کہ موت باہر نہ آجائے، حضرت امام مالک کا بھی یہ ہی دستور رہا،یہاں شفاعت سے مرادخصوصی شفاعت ہے،گنہگاروں کے سارے گناہ بخشوانے کی شفاعت اور نیک کاروں کے بہت درجے بلند کرنے کی شفاعت،ورنہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اپنی ساری ہی امت کی شفاعت فرمائیں گے۔خیال رہے کہ مدینہ پاک میں رہنا بھی افضل وہاں مرنا بھی اعلٰی اور وہاں دفن ہونا بھی بہتر،بعض صحابہ بعد موت مدینہ میں لاکر دفن کیے گئے۔اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص مدینہ پاک میں مرے دفن ہونے کی کوشش کرے وہ ان شاءاﷲ ایمان پر مرے گا کیونکہ اس کے لیے شفاعت خاص کا وعدہ ہے اور شفاعت صرف مؤمن کی ہوسکتی ہے۔(ازمرقات)
۲؎ یعنی یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہے بعض اسنادوں میں صحیح ہےبعض میں حسن،بعض میں غریب۔علماء فرماتے ہیں کہ بمقابلہ حجوں کے بقیع میں دفن ہونا افضل ہےکہ یہ قبرستان روضہ اطہر سے قریب ہے اس میں بہت صحابہ کے مزارات ہیں،جتنا ان سے قرب ہو اتنا ہی اچھا۔(مرقات)شعر
مٹی عزیز بلبل بے بال و پر کی ہے
یہ فقیر گنہگار شرم سار احمد یار بارگاہ الٰہی میں دعا کرتا ہے کہ صدقہ اپنے محبوب اکبر صلی اللہ علیہ و سلم کا مجھے رب تعالٰی مدینہ پاک کا قیام،وہاں کی مسجد نبوی شریف کا اعتکاف،وہاں کی موت،وہاں کا دفن نصیب کرے اگر وہاں دفن میسر ہوجائے تو میری مٹی عزیز ہو جائے۔آمین یا رب العلمین وصلی اﷲ علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم شعر۔
در کو تکتے تکتے ہوجاؤں ہلاک وہاں کی خاک پاک سے مل جائے خاک
|
2751 -[24] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آخِرُ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْإِسْلَامِ خَرَابًا الْمَدِينَةُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اسلام کی بستیوں میں سے آخری بستی جو ویران ہوگی وہ مدینہ پاک ہے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔ |
۱؎ اس حدیث میں دو باتیں فرمائی گئیں:ایک یہ کہ قریب قیامت بڑی بڑی بستیاں ویران ہوجائیں گی مگر مدینہ منورہ آباد رہے گا،یہ بالکل قیامت سے متصل ویران ہوگا۔دوسرے یہ کہ عالم کی آبادی مدینہ پاک کی آبادی سے وابستہ ہے جب یہ اجڑ گیا دنیا اجڑ جائے گی قیامت آجائے گی۔ (اشعہ،مرقاۃ)خیال رہے کہ یہاں قریۃ بمعنی بستی ہے جو شہر و گاؤں سب کو شامل ہے بمعنی گاؤں نہیں،عربی میں گاؤں کو قریہ،قصبہ کو بلد،اس سے بڑی بستی کو مدینہ،اس سے بڑی کو مصر کہتے ہیں،بعض نے بلد اور مدینہ کو یکساں کہا ہے مگر کبھی قریہ بمعنی مطلقًا بستی میں آجاتا ہے چھوٹی ہو یا بڑی۔(اشعہ)
|
2752 -[25] وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ: أَيَّ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ نَزَلْتَ فَهِيَ دَارُ هِجْرَتِكَ الْمَدِينَةِ أَوِ الْبَحْرَيْنِ أَوْ قِنَّسْرِينَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت جریر ابن عبداﷲ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ اﷲ تعالٰی نے مجھے وحی فرمائی ان تینوں بستیوں میں سے جہاں ۱؎ بھی آپ قیام فرمائیں وہ ہی آپ کا مقام ہجرت ہے مدینہ منورہ یا بحرین یا قنسرین۲؎(ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع