30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے بے دینی باشندوں کی وجہ سے یا تمام باشندوں پر تین بار کانپے گی یعنی زلزلہ آئے گا تاکہ بے دین نکل کر دجّال کے پاس پہنچ جائیں اور مخلصین یہیں رہ جائیں،مخلصین کسی مصیبت میں بھی مدینہ پاک نہیں چھوڑتے،یہ زلزلے کھروں کھوٹوں میں چھانٹ کے لیے ہوں گے ان سے وہاں کے مکانات نہ گریں گے صرف انسانوں کو جھٹکے محسوس ہوں گے اسی لیے باھلھا فرمایا۔
۴؎ معلوم ہواکہ اس زمانہ میں مدینہ طیبہ میں کفار ہوں گے چھپے یا کھلے یا وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کریں گے مگر ہوں گے کافر،مشرک نہ ہوں گے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ جزیرہ عرب میں شیطان کی عبادت نہیں ہوسکتی۔
|
2743 -[16] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَكِيدُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ إِلَّا انْمَاعَ كَمَا يَنْمَاعُ الْملح فِي المَاء» |
روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی شخص مدینہ والوں سے فریب نہ کرے گا مگر وہ ایسے گھل جائے گا جیسے پانی میں نمک گھل جاتا ہے ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ بالکل صحیح اور مجرب ہے کہ جس نے اہلِ مدینہ کو ستایا چین نہ پایا، یزید پلید واقعہ حرہ کے بعد دق اور سل میں مبتلا ہو کر مرگیا، حجاج ابن یوسف برے حال سے ہلاک ہوا۔
|
2744 -[17] وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَنَظَرَ إِلى جُدُراتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حركها من حبها. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب سفر سے آتے اور مدینہ پاک کی دیواروں کو دیکھتے تو اپنی سواری کو تیز فرمادیتے اگر گھوڑے پر ہوتے تو اسے ایڑی لگاتے اس کی محبت کی وجہ سے ۱؎(بخاری) |
۱؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو مدینہ پاک اتنا پیارا تھا کہ ہر سفر سے واپسی میں یوں تو معمولی رفتار پر جانور چلاتے تھے مگر مدینہ پاک کو دیکھتے ہی وہاں جلد پہنچ جانے کے لیے سواری تیز فرمادیتے تھے،اسی محبت کا اثر ہے کہ مسلمان مدینہ پر دل و جان سے فدا ہیں کیونکہ یہ محبوب کا محبوب ہے اس مقدس شہر کی سینکڑوں تاریخیں لکھی گئیں اور نظم و نثر میں ہزار ہا اس کی منقبتیں۔
|
2745 -[18] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ: «هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أحرم مَا بَين لابتيها» |
روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے احد چمکا ۱؎ تو فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۲؎ یقینًا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو حرم بنایا اور میں مدینہ کے گوشوں کے درمیان کو حرم بناتا ہوں ۳؎(بخاری، مسلم) |
۱؎ یا تو سرکار عالی سفر سے لوٹ رہے تھے کہ احد نمودار ہوا یا مدینہ منورہ ہی میں ایک بار احد پر نظر پڑی اور یہ فرمایا۔احد شریف مدینہ پاک سے بجانب مشرق تقریبًا تین میل دور ایک پہاڑ ہے مدینہ منورہ خصوصًا جنت البقیع سے صاف نظر آتا ہے،وہاں شہداء احد خصوصًا سید الشہداء امیر حمزہ کے مزارات ہیں،زائرین جوق در جوق اس پہاڑ کی زیارت کرتے ہیں،میں نے حجاج کو اس پہاڑ سے لپٹ کر روتے اور وہاں کے پتھروں کو چومتے دیکھا ہے۔ہر مؤمن کے دل میں قدرتی طور پر اس کی محبت ہے۔
۲؎ بعض ظاہر بین شارحین نے کہا ہے کہ اس سے احد کے باشندوں کی محبت مراد ہے مگر حق یہ ہے کہ خود پہاڑ ہی حضور سے محبت کرتا ہے،لکڑیوں پتھروں میں احساس بھی ہے اور محبت و عداوت کا مادہ بھی،حضور کے فراق میں اونٹ بھی روئے اور لکڑیوں نے بھی گریہ و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع