30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد ظہور دجّال کے زمانہ کا واقعہ ہے،دجّال تو مدینہ منورہ میں نہ داخل ہوسکے گا مگر مدینہ پاک میں زلزلہ سا ہوگا جس سے منافقین یہاں سے بھاگ جائیں گے اور دجّال کے جال میں پھنس جائیں گے۔مخلصین نہ نکلیں گے یہ ہوگی مدینہ پاک کی چھانٹ۔ہوسکتا ہے کہ اس سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا زمانہ ہی مراد ہوکیونکہ حضور کی تشریف آوری بھی علامت قیامت ہے یعنی چونکہ اب قیامت قریب آگئی اس لیے مدینہ منورہ کی یہ تاثیر ظاہر ہونے لگی۔(مرقات)مگر پہلے معنے زیادہ واضح ہیں۔ شرار سے مراد منافقین اور مدینہ کے غیر مناسب لوگ ہیں۔
|
2741 -[14] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ» |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مدینہ منورہ کے راستوں پر فرشتے ہیں یہاں نہ طاعون آسکتی ہے اور نہ دجّال ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ انقاب نقب کی جمع،پہاڑ کے درّہ یا دو پہاڑوں کے درمیان کے راستہ کو نقب کہتے ہیں،یہاں مطلقًا راستہ مراد ہے۔ مدینہ منورہ پر فرشتوں کا یہ پہرہ دائمی ہے کہ اس کے تمام راستوں پر ایسے فرشتے پہرہ دے رہے ہیں جن کی وجہ سے وہ جنات مدینہ پاک میں نہیں آسکتے جن کے اثر سے طاعون پھیلتی ہے،آج تک وہاں طاعون نہ پھیلی اور نہ ان شاءاﷲ پھیلے گی،دجّال بھی وہاں نہ پہنچ سکے گا،پیداوار والے ممالک میں قحط پڑتے رہتے ہیں،لوگ بھوک سے ہلاک ہوتے رہتے ہیں مگر آج تک حرمین شریفین میں قحط نہیں سنا گیا،نہ لوگ وہاں بھوک سے ہلاک ہوئے اگرچہ وہاں پیداوار کوئی نہیں یہ کھلا معجزہ ہے۔خیال رہے کہ شہر مدینہ کی حفاظت پر اور قسم کے فرشتے مامور ہیں اور روضہ اطہر پر سلام عرض کرنے کے لیے ستر ہزار دوسرے فرشتے مامور ہیں جن کی دن رات تبدیلیاں ہوتی ہیں۔
|
2742 -[15] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنْ بلدٍ إِلا سَيَطَؤهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ لَيْسَ نَقْبٌ مِنْ أَنِقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ يَحْرُسُونَهَا فَيَنْزِلُ السَّبِخَةَ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ» |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ایسا کوئی شہر نہیں جسے دجّال روند نہ ڈالے سوائے مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے ۱؎ اس کے راستوں میں سے ایسا کوئی راستہ نہیں جس میں صف بستہ فرشتے نہ ہوں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں ۲؎ چنانچہ وہ زمین شور میں اترے گا پھر مدینہ اپنے باشندوں پر تین بار کانپے گا۳؎ تو دجّال کی طرف ہر کافر و منافق نکل جائے گا۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی دجّال تمام دنیا کے سارے شہروں گاؤں میں پہنچ کر فساد پھیلادے گا مگر حرمین طیبین میں داخل نہ ہوسکے گا اور یہاں پہنچ کر فساد نہ پھیلا سکے گا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جسم پاک مصطفٰے صلی اللہ علیہ و سلم کی وجہ سے مدینہ منورہ دجّال سے محفوظ ہے تو جس دل پر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی نگاہ کرم ہوجائے وہ بھی یقینًا شیطان سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
۲؎ دجّال مدینہ منورہ میں داخل ہونا چاہے گا مگر ان فرشتوں کو دیکھ کر آگے نہ بڑھ سکے گا جیسے شیطان فرشتوں کو دیکھ لیتا ہے ایسے ہی وہ بھی دیکھ لے گا۔
۳؎ سبخہ شورستان یعنی کھاری زمین کو کہتے ہیں اور مدینہ منورہ سے قریب ایک جگہ کا نام بھی ہے ۔باھلہا میں ب یا سببیہ ہے یا صلہ کی، پہلی صورت میں اہل سے مراد وہاں کے منافق و کافر باشندے ہیں،دوسری صورت میں سارے اہل مدینہ مراد ہیں یعنی زمین مدینہ وہاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع