30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2739 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعَكٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خبثها وتنصع طيبها» |
روایت ہے حضرت جابر ابن عبداﷲ سے کہ ایک بدوی نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے بیعت کی ۱؎ پھر اسے مدینہ منورہ میں بخار آگیا ۲؎ تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا یا محمد صلی اللہ علیہ و سلم میری بیعت فسخ فرمادیجئے ۳؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے انکار کیا ۴؎ وہ پھر حاضر ہوا بولا میری بیعت فسخ کردیجئے ۵؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے انکار کیا وہ پھر آیا بولا میری بیعت فسخ فرمادیجئے حضور نے انکار کیا وہ بدوی آخر چلا گیا۶؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو لوہے کے میل کو دور کردیتی ہے اور اچھے کو خالص کرلیتی ہے ۷؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی ایک دیہاتی آدمی ایمان لایا،پھر اس نے ہجرت پر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے بیعت کی کہ میں اپنے وطن میں جو دارالکفر ہے قیام نہ رکھوں گا بلکہ مدینہ منورہ آپ کے قدموں میں آن بسوں گا۔
۲؎ وہ بے وقوف سمجھا کہ مدینہ کی آب و ہوا مجھے موافق نہیں اور یہ بیعت مجھے راس نہ آئی جس سے میں بیمار ہوگیا اس لیے اس نے اگلا کلام عرض کیا۔
۳؎ اور مجھے اجازت دیجئے کہ اسلام سے پھر جاؤں یا اپنی ہجرت توڑ کر اپنے وطن چلا جاؤں۔
۴؎ کیونکہ پہلی صورت میں تو فسخ بیعت سے اسے ارتداد کی اجازت دینا لازم ہوگا اور دوسری صورت میں مہاجر کو ہجرت ختم کردینے کی اجازت ہوگی،پہلی جز کفر ہے دوسری جز حرام،فتح مکہ کے بعد بھی حضور انور نے کسی مہاجر کو مکہ معظمہ بسنے کی اجازت تو کیا وہاں تین دن سے زیادہ بلا ضرورت رہنے کی اجازت نہ دی۔
۵؎ وہ سمجھا یہ تھا کہ جیسے بیع،نکاح بعض صورتوں میں فسخ ہوجاتے ہیں ایسے ہی بیعت اسلام یا بیعت ہجرت بھی فسخ ہوسکتی ہے اس لیے بار بار یہ کہتا رہا۔ظاہر یہ ہے کہ وہ مرتد ہونا نہ چاہتا تھا بلکہ ہجرت چھوڑنا چاہتا تھا ورنہ واجب القتل ہوتا کہ کفر و ارتداد کا ارادہ کرلینا بھی کفر ہے۔
۶؎ یعنی بغیر اجازت ہی مدینہ منورہ سے نکل گیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فی الحال اس کا ارادہ ترک اسلام نہ تھا ترک ہجرت تھا اس کی وہ اجازت مانگتا تھا۔
۷؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ زمین مدینہ میں کھوٹوں کو نکالنے،کھروں کو چھانٹ لینے کی تاثیر اول ہی سے ہے اور آخر تک رہے گی صرف قریب قیامت نہ ہوگی،جو منافقین یا یہود وہاں ہی مرکر وہاں ہی دفن ہوگئے ان کی نعشیں وہاں سے نکال دی گئیں۔غرضکہ زمین مدینہ کسی خبیث کو اس کی زندگی میں ہی نکال دیتی ہے کسی کو بعد موت لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں،ہاں قریب قیامت اس چھانٹ کا خصوصی اثر نمودار ہوگا جسے ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا لہذا یہ حدیث اگلی آنے والی حدیث کے خلاف نہیں۔
|
2740 -[13] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيد» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ مدینہ منورہ برے لوگوں کو یوں نکال دے گا جیسے بھٹی لوہے کا میل نکال دیتی ہے ۱؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع