30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2736 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قومٌ يبُسُّونَ فيَتَحمَّلونَ بأهليهم وَمن أطاعهم وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَيُفْتَحُ الشَّامُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَيُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يعلمُونَ» |
روایت ہے حضرت سفیان ابن ابی زہیر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ عنقریب یمن فتح ہوگا تو ایک قوم دوڑتی ہوئی خوشی خوشی آئے گی ۱؎ اور اپنے بال بچوں اور اپنے خدام کو وہاں لے جائے گی حالانکہ اگر وہ سمجھتے تو مدینہ ان کے لیے بہتر تھا ۲؎ اور شام فتح ہوگا تو ایک قوم خوشی خوشی دوڑتی آئے گی تو گھر والوں اور خدام کو وہاں لے جائے گی حالانکہ ان کے لیے مدینہ اچھا تھا اگر وہ جانتے اور عراق فتح ہوگا ۳؎ تو ایک قوم خوشی خوشی دوڑتی آئے گی اور اپنے بال بچوں اور خادموں کو لے جائے گی حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا اگر جانتے ۴؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ یَبُسُّوْنَ بَسٌّ سے بنا بمعنی نرم رفتار،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا"یعنی فتح یمن کے بعد بعض مدینہ والے وہاں جاکر وہاں کے عیش و آرام دیکھیں گے تو خراماں خراماں خوش خوش مدینہ آئیں گے اور اپنے بال بچوں کو یمن لے جائیں گے،مدینہ منورہ کی رہائش چھوڑ کر یمن کی بودوباش اختیار کرلیں گے بعض شارحین نے اس جملہ کے یہ معنے کیے کہ فتح یمن کے بعد بعض یمنی لوگ اپنے بال بچے مدینہ منورہ لے آئیں گے اور مدینہ کی بود باش اختیار کرلیں گے مگر یہ معنے بعید ہیں اگلا مضمون اس کے موافق نہیں الا بالتاویل البعید۔(ازمرقات)
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ لوتمنا کا ہے یعنی کاش یہ چلے جانے والے لوگ یہ جان لیتے کہ دوسرے شہروں سے مدینہ منورہ ان کے لیے بہتر ہے کہ یہاں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا قرب ہے،مسجد نبوی شریف میں نماز میسر ہے،یہ سرزمین جائے نزول وحی ہے،یہاں دین و دنیا کی بھلائیاں ہیں۔
۳؎ خیال رہے کہ عراق عہد صدیقی میں فتح ہوا اور شام خلافت فاروقی میں لہذا یہاں ذکر کی ترتیب واقع کی ترتیب کے موافق نہیں ہے۔
۴؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یمن،شام،عراق غرضکہ تمام ملکوں سے مدینہ منورہ بہتر اور افضل ہے اگرچہ شام میں ہزار ہا انبیاء کرام کے مزارات ہیں وہاں بیت المقدس ہے اور مدینہ منورہ میں صرف حضور انور آرام فرما ہیں مگر مدینہ ہی افضل ہے کہ سارے تارے شام میں ہیں اور سورج مدینہ میں،امام مالک رحمۃ اﷲ علیہ اس جملہ کے معنے یہ کرتے ہیں کہ تمام جگہ سے بہتر مدینہ ہے،اس میں مکہ معظمہ بھی داخل ہے،اسی بنا پر وہ فرماتے ہیں کہ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ افضل ہے۔(مرقات)خیال رہے کہ تمام اماموں کا ہاں مدینہ میں رہنا افضل ہے،مکہ میں رہنے سے بھی کسی حدیث میں مکہ معظمہ کے رہنے پر اتنا زور نہیں دیا گیا جتنا مدینہ پاک میں رہنے پر دیا گیا ہے،مکہ معظمہ کا افضل ہونا اور ہے اور وہاں رہنے سہنے کا افضل ہونا کچھ اور۔ہم اس کے متعلق پہلے عرض کرچکے ہیں کہ سیدنا عبداﷲ ابن عباس نے طائف شریف کا قیام اختیار فرمایا۔شعر
میرا دل زار مدینہ میں ہے میں ہوں یہاں یار مدینہ میں
خلد کا مختار مدینہ میں ہے دید کا بازار مدینہ میں
|
2737 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى. يَقُولُونَ: يَثْرِبَ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے ایسی بستی کا حکم دیا گیا جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی ۱؎ لوگ اسے یثرب کہیں گے حالانکہ وہ مدینہ ہے ۲؎ لوگوں کو ایسے صاف کردے گی جیسے بھٹی لوہے کے میل کو ۳؎ (مسلم، بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع