30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2733 -[6] وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي أَنْ يرد عَلَيْهِم. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عامر ابن سعید سے کہ جناب سعد اپنے ڈیرے کی طرف سوار ہوئے جو عقیق میں تھا تو ایک غلام کو درخت کاٹتے یا پتے جھاڑتے دیکھا ۱؎ تو اس کے کپڑے چھین لیے جب حضرت سعد لوٹے تو ان کے پاس غلام والے لوگ آئے اور عرض کیا کہ ان کے غلام کو یا ان کو وہ سامان واپس کردیں جو ان کے غلام سے لیا ہے ۲؎ تو آپ نے فرمایا معاذ اﷲ کہ میں وہ چیز واپس کروں جو مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے غنیمۃً عطا فرمائی ہے اور واپس کرنے سے انکار کردیا ۳؎(مسلم) |
۱؎ عقیق مدینہ منورہ سے ایک میل کے فاصلہ پر ایک جگہ ہے ذوالحلیفہ کے راستہ میں،چونکہ یہ جگہ حرم مدینہ میں داخل ہے اس لیے یہ واقعہ درپیش ہوا،شک راوی کو ہے کہ یہ غلام اپنے جانوروں کے لیے یا تو خود رو چھوٹے درخت کاٹ رہا تھا یا کسی بڑے جنگلی درخت کے پتے جھاڑ رہا تھا۔
۲؎ معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کا مذہب یہ ہی ہے کہ حرم مدینہ کے درخت کاٹنے یا پتے جھاڑنے پر ضمان نہیں ہے،حضرت سعد ابن ابی وقاص نے جو اس غلام کے کپڑے اور سامان چھین لیا وہ یا تو سیاسۃً ہے یا انہوں نے اس حدیث کا مطلب سمجھا نہیں جس میں سامان چھین لینے کا حکم ہے،ورنہ یہ حضرات حضرت سعد ابن ابی وقاص سے سامان واپس نہ مانگتے بلکہ ان کی تائید کرتے کہ احکام شرعیہ پر عمل ضروری ہے اس کے خلاف کا مشورہ دینا گناہ ہے،یہ واپسی کا مطالبہ قابل غور ہے۔
۳؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تم کسی کو حرم مدینہ کے درخت یا پتے کاٹتے دیکھو تو بطور غنیمت سامان چھین لو اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اس سامان کی قیمت دے دوں مگر سامان نہ دوں گا،یہ حدیث تمام آئمہ کے ہاں واجب التاویل ہے کسی کا اس پر عمل نہیں کیونکہ یہ کوئی نہیں کہتا کہ درخت کاٹنے والے کا سامان کپڑے وغیرہ چھین لو،حرم مکہ میں بھی شکار یا درخت کی قیمت خیرات کرنا ہوتی ہے کوئی شکاری کا سامان چھین نہیں سکتا لہذا یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ سرکار عالی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان کہ اس کے کپڑے چھین لو تشدیدًا ہے جیسے فرمایا گیا کہ جو نمازی کے آگے سے گزرنے لگے اس سے جنگ کرو یا نوحہ کرنے والی عورتوں کے منہ میں خاک ڈال دو یا جو کسی کی تعریف اس کے سامنے کرے تو اس کے منہ میں خاک جھونک دو،یہ احادیث اپنے ظاہری معنے پر نہیں ایسے ہی یہاں سامان چھیننے کے ظاہری معنے مراد نہیں بلکہ مراد ہے سختی سے منع کردینا ۔حضرت سعد کا یہ اجتہادی حکم ہے کافر حربی کا مال غنیمت ہوتا ہے ذمی کافر کا مال بھی غنیمت نہیں ہوتا چہ جائیکہ مسلمان کا۔خیال رہے کہ امام مالک و شافعی کے ہاں مدینہ کے شکار اور درخت کاٹنا حرام تو ہیں مگر ان کی جزاء واجب نہیں،بعض آئمہ کے ہاں جزاء یعنی قیمت خیرات کرنا واجب ہے،ہمارے ہاں نہ جزاء ہے نہ یہ کام حرام مکروہ ہے جیساکہ پہلے عرض کیا گیا، حضرت ابن مسعود،ابن عمر،عائشہ صدیقہ کا یہی مذہب ہے،خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت وہاں کی کھجوریں وغیرہ کاٹ کاٹ دیں،مشرکین کی قبریں اکھیڑ دیں اور وہاں مسجد بنادی، حضرت ابن مسعود اور ابن زبالہ نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت مسلمہ سے فرمایا تھا کہ اگر تم عقیق میں شکار کھیلو تو ہم تمہاری امداد کریں جیساکہ ابن ابی شیبہ طبرانی منذری نے باسناد حسن روایت کی،نیز طبرانی میں حضرت انس سے مرفوعًا منقول ہے کہ حضور انور نے فرمایا جب تم احد پہاڑ پر جاؤ تو وہاں کے درخت یا کچھ گھاس کھا لو اور کھانا بغیر اکھیڑے یا کاٹے ناممکن ہے،دیکھو مرقات وغیرہ
|
2734 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صاعها ومدها وانقل حماها فاجعلها بِالْجُحْفَةِ» |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر و بلال کو بخار آگیا ۱؎ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے حضور انور کو یہ خبر دی تو فرمایا الٰہی مدینہ ہمیں ایسا پیارا کردے جیسے مکہ پیارا تھا یا اس سے بھی زیادہ اور اسے صحت بخش بنا دے اور اس کے صاع و مد میں ہمیں برکت دے اور یہاں کے بخار کو منتقل کرکے حجفہ میں بھیج دے ۲؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع