30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہی اسے حرم بنایا جب کہ آسمان و زمین پیدا فرمائے،حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے اس کے وہ احکام جاری ہوئے جو آج بھی باقی ہیں یعنی یہاں کے شکار کرلینے پر قیمت کا فدیہ واجب ہونا،باقی اس بقعہ پاک کا احترام وہ تو ابتداء خلق سے ہورہا ہے اس لیے اس کے حرم بنانے کی نسبت حضرت خلیل کی طرف درست ہے۔
۲؎ یعنی مکہ معظمہ میں احرام باندھ کر آنا،بغیر احرام داخلہ منع ہونا،حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے آپ کی دعا سے ہوا،اس جملہ نے حرم بنانے کے معنے واضح کردیئے۔
۳؎ یعنی اس زمین مدینہ کو تاقیامت محترم و معظم قرار دیتا ہوں حضرت خلیل اور حبیب کے حرم بنانے میں بہت طرح فرق ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ جناب خلیل نے اس زمین مکہ کو حرم بنایا جو بعض وجوہ سے پہلے بھی حرم تھی اور لوگوں سے جو عظمت اس کی گم ہوگئی تھی وہ ظاہر فرمائی مگر حضور انور نے اس زمین مدینہ کو حرم بنایا جو پہلے سے معظم نہ تھی بلکہ لوگ اس سے گھبراتے تھےکہ یہ جگہ وباؤں کی تھی حتی کہ اس کا نام بھی یثرب تھا یعنی بلاؤں کا گھر۔
۴؎ مازم دو پہاڑوں کے درمیان تنگ راستہ کو کہتے ہیں جو کہیں بالکل مل جائے اور کہیں وسیع ہوجائے،اس سے مراد اطراف مدینہ ہیں۔(مرقات)
۵؎ لایحمل الخ خون نہ بہانے کی تفسیر ہے یعنی مدینہ کی حدود میں مسلمان لڑیں بھڑیں نہیں جس سے خون خراب ہو کہ اگرچہ یہ حرکت ہر جگہ ہی بری ہے مگر مدینہ میں زیادہ بری،کسی امام کے ہاں اس کے یہ معنے نہیں کہ اگر مستحق قتل مجرم زمین مدینہ میں پناہ لے لے تو اس سے قصاص نہ لیا جائے یہ صرف مکہ معظمہ کی شان ہے کہ "مَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا"۔
۶؎ یہ جملہ امام ابوحنیفہ کی دلیل ہے کہ حرم مدینہ میں درخت کاٹنا درست ہے کہ یہاں چارے کے لیے کاٹنے کی اجازت دی،اگر درخت کاٹنا حرام ہوتے تو چارے کے لیے بھی نہ کاٹے جاتے جیساکہ مکہ معظمہ کے حرم میں ہے،رہا وہاں کے شکار کا حرام ہونا تو چڑیوں و دیگر پرندوں کے شکار کے جواز پر قریبًا سب ہی کا اتفاق ہے،چرندے کے شکارکو اکثروجمہور صحابہ درست مانتے ہیں،بعض نے منع فرمایا مگر اس شکار کی بھی قیمت خیرات کرنا کسی کے ہاں واجب نہیں اور نہ کسی حدیث سے اس کا وجوب ثابت ہے۔غرضکہ حرم مکہ بمعنی تحریم ہے اور حرم مدینہ بمعنی احترام، مدینہ منورہ کا احترام مکہ معظمہ سے بھی زیادہ ہے۔خیال رہے کہ حرم مدینہ کو حرم مکہ سے تشبیہ دینا بعض وجوہ یعنی احترام و تعظیم کے لحاظ سے نہ کہ تمام وجوہ سے جیسے رب تعالٰی کا فرمان:"اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ"کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ مدینہ منورہ دارالجرۃ ہے یہاں لوگ کثرت سے حاضر ہوں گے لہذا یہاں سے درخت وغیرہ نہ کاٹو تاکہ یہاں کی زینت نہ جاتی رہے،آج دیگر سرکاری جگہ میں پھول توڑنا،درخت کاٹنا منع ہوتا ہے،کیوں ؟بقاء زینت کے لیے یہ حکم بھی ایسے ہی ہے کہ چارے کے لیے کاٹ لو بلاضرورت نہ کاٹو۔
|
2733 -[6] وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي أَنْ يرد عَلَيْهِم. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عامر ابن سعید سے کہ جناب سعد اپنے ڈیرے کی طرف سوار ہوئے جو عقیق میں تھا تو ایک غلام کو درخت کاٹتے یا پتے جھاڑتے دیکھا ۱؎ تو اس کے کپڑے چھین لیے جب حضرت سعد لوٹے تو ان کے پاس غلام والے لوگ آئے اور عرض کیا کہ ان کے غلام کو یا ان کو وہ سامان واپس کردیں جو ان کے غلام سے لیا ہے ۲؎ تو آپ نے فرمایا معاذ اﷲ کہ میں وہ چیز واپس کروں جو مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے غنیمۃً عطا فرمائی ہے اور واپس کرنے سے انکار کردیا ۳؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع