30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمائیں گے یا حضور انور اپنے زمانہ میں مرنے والوں کی گواہی اور بعد میں وہاں مرنے والوں کی شفاعت کریں گے اگرچہ حضور اپنے ہر امتی کے گواہ بھی ہیں اور شفیع بھی مگر مدینہ میں مرنے والوں کی شفاعت بھی خصوصی ہوگی اور گواہی بھی خصوصی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان حرمین طیبین خصوصًا مدینہ منورہ میں رہنے مرنے کو رب تعالٰی کی اعلٰی نعمت جانے،اگر یہ مٹی وہاں کی پاک مٹی سے مل جائے تو اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتا ہے۔شعر
پس مرگ مری مٹی ٹھکانے خوب لگ جاتی میسر گر مجھے دو گز مدینہ کی زمیں ہوتی
|
2730 -[3] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرا کوئی امتی مدینہ کی سختیوں اور تکلیف پر صبر نہ کرے گا مگر میں قیامت کے دن اس کا شفیع ہوں گا ۱؎(مسلم) |
۱؎ شفاعت خصوصی، حق یہ ہے کہ یہ وعدہ ساری امت کے لیے ہے کہ مدینہ میں مرنے والے حضور انور کی اس شفاعت کے مستحق ہیں۔ شعر
طیبہ میں سر کےسیدھے چلےجاؤ آنکھیں بند سیدھی سڑک یہ شہر شفاعت نگر کی ہے
خیال رہے کہ حضور انور کی ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں رہنا بہتر تھا اور ہجرت کے بعد فتح مکہ سے پہلے مکہ معظمہ میں رہنا مسلمان کو منع ہوگیا ہجرت واجب ہوگئی اور فتح مکہ کے بعد وہاں رہنا تو جائز ہوا مگر مدینہ منورہ میں رہنا افضل قرار پایا کہ یہاں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے قرب ہے اسی لیے زیادہ تر فضائل مدینہ پاک میں رہنے کے آئے ہیں۔
|
2731 -[4] وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرَةِ جَاءُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَخَذَهُ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَأَنَا أدعوكَ للمدينةِ بمثلِ مَا دعَاكَ لمكةَ ومِثْلِهِ مَعَهُ» . ثُمَّ قَالَ: يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ فيعطيهِ ذَلِك الثَّمر. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ لوگ جب پہلا پھل دیکھتے تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لاتے تھے ۱؎ جب حضور اسے لیتے تو فرماتے الٰہی ہمارے پھلوں میں ہمارے لیے برکت دے ہمارے مدینہ میں برکت دے ۲؎ ہمارے صاع میں ہمارے مد میں ہمارے واسطے برکت دے ۳؎ الٰہی ابراہیم تیرے بندے تیرے خلیل تیرے نبی ہیں اور میں تیرا بندہ تیرا نبی ہوں ۴؎ انہوں نے مکہ کے لیے دعا کی ۵؎ اور میں مدینہ کے لیے ویسی ہی دعا کرتا ہوں جیسی انہوں نے مکہ کے لیے دعا کی اور اتنی ہی اس کے ساتھ اور ۶؎ فرمایا پھر کسی چھو ٹے بچے کو بلاتے اسے یہ پھل عطا فرمادیتے ۷؎(مسلم) |
۱؎ یعنی باغ والے اپنے باغ کا پہلا پھل،یوں ہی مدینہ والے جب بازارمیں نیا پھل دیکھتے تو حضور انور کی خدمت میں ہدیۃً لاتے تاکہ باغ میں اور گھروں میں برکت رہے،بعض لوگ پہلے پھل پر فاتحہ دےکر بچوں میں تقسیم کرتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے،فاتحہ میں ثواب کا نذرانہ ہوتا ہے اگر ہم کو وہ میسر نہ ہوا تو ہدیہ ثواب ہی کریں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع