دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۱؎ حضرت علی کے زمانہ خلافت میں رفض اور خروج کی جڑیں قائم ہوئیں چھپے منافق ان گروہوں کی شکل میں نمودار ہوئے،روافض نے مشہور کیا کہ حضرت علی کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا خصوصی وصیت نامہ اور خلافت نامہ ہے جس میں لکھا ہے کہ آپ اسلام کے خلیفہ اول ہیں لہذا گزشتہ خلافتیں باطل تھیں اور یہ کہ آپ کے پاس کوئی خاص چھپا ہوا قرآن ہے اور وہی اصلی ہے اس لیے بعض لوگ آپ سے اس کے متعلق سوال کرتے تھے اور جناب علی مرتضٰی یہ جواب دیتے تھے،بعض روافض کو آپ نے زندہ جلوادیا جیسا کہ مشکوٰۃ کتاب الحدود میں آئے گا مگر یہ دبی چنگاری سلگتی ہی رہی۔صحیفہ ایک کاغذ تھا جس میں کچھ شرعی احکام لکھے ہوئے تھے جو جناب علی کی تلوار کے پرتلہ میں رہتا تھا جو آپ لوگوں کو دکھایا بھی کرتے تھے اور سناتے بھی تھے،وہی واقعہ یہاں بیان ہورہا ہے آپ فرمارہے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی اور قرآن نہیں یہی قرآن ہے اور حضور انور کی کوئی خاص وصیت یا تحریر نہیں صرف یہ ورق ہے جس میں کچھ احکام لکھے ہوئے ہیں۔

۲؎ عیرو ثورکے متعلق شارحین کے بہت اقوال ہیں۔حضرت شیخ نے اشعہ میں فرمایا کہ یہ دونوں پہاڑ ہیں جو مدینہ منورہ کے کناروں پر واقع ہیں،بعض نے فرمایا کہ یہ دونوں پہاڑ مکہ معظمہ میں ہیں۔ثور پہاڑ وہ ہے جس کے غار میں ہجرت کی رات حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مع صدیق اکبر چھپے تھے اس لیے اسے غار ثور کہتے ہیں اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جتنا فاصلہ مکہ کے دو پہاڑوں عیرو ثور کے درمیان ہے اتنا فاصلہ مدینہ منورہ کا حرم ہے،بعض نے فرمایا کہ عیر تو مدینہ منورہ میں ہے اور ثور مکہ معظمہ میں،بعض کے خیال میں ہے کہ عیر و ثور پہاڑ نہیں بلکہ اطراف مدینہ کے دو میدانوں کا نام ہے جنہیں حرّتین کہتے ہیں،بعض روایات میں عیر و اُحد ہے راوی نے غلطی سے بجائے احد کے ثور کہا،بہرحال مدینہ منورہ کے حدود مراد ہیں۔

۳؎ یہ فرمان امام اعظم کی قوی دلیل ہیں کہ حدود مدینہ میں شکار حرام نہیں بلکہ یہ چیزیں حرام ہیں جو حضرت علی نے بیان فرمائیں یعنی یہاں بدعتیں ایجاد کرنا بدعتیوں کو مدینہ میں جگہ دینا سخت گناہ ہے کہ اس میں مدینہ منورہ کی بے حرمتی بھی ہے اور دین میں فسادبھی۔خیال رہے کہ بدعت و بدعتی سے عقیدہ کی بدعتیں و بدعتی مراد ہیں جیسے رفض و خوارج،وہابیت وغیرہ نہ کہ عملی بدعتیں کہ وہ تو کبھی فرض واجب بھی ہوتی ہیں جیسے کتب حدیث کا جمع کرنا یا قرآن کریم کے تیس پارے اور علم فقہ وغیرہ،اگرچہ ہر جگہ ہی بدعتیں بری ہیں مگر مدینہ پاک میں زیادہ بری۔

۴؎ صَرف سے مراد فرائض ہیں یا شفاعت یا توبہ اور عدل سے مراد نوافل ہیں یا فدیہ گناہ کہ صرف کے معنے ہیں پھیرنا فرائض کی ادا یا شفاعت یا توبہ سے عذاب الٰہی پھر جاتا ہے،لوٹ جاتا ہے،عدل کے معنے ہیں برابری نفل کبھی فرض کی کمی پوری کرکے کامل فرض کے برابر کردیتے ہیں یا فدیہ اصل فوت شدہ کے برابر ہوتا ہے۔

۵؎ یعنی اگر معمولی درجے کا مسلمان کسی کافر کو امان یا ذمہ یا پناہ دے دے تو تمام مسلمانوں پر اس کا پورا کرنا لازم ہے اسے توڑنا حرام ہے اور باعث مذمت،سارے مسلمان ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں کہ روح سب کی ایک ہے کوشش کرنے سے مراد والی یا متولی یا ذمہ دار ہوتاہے۔

۶؎ یعنی جو مسلمان دوسرے مسلمان کے ذمہ یا اس کی دی ہوئی امان توڑے یا اس کے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے اس پر لعنت ہے۔

۷؎ ولاء دو قسم کی ہے ولاء مولات اور ولاء عتاقۃ،ولاء مولات قوموں کے معاہدے کو کہتے ہیں کہ چند قومیں کسی معاہدے میں شریک ہوکر ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن جائیں،ان میں سے ہر ایک بغیر دوسرے ساتھیوں سے مشورہ کیے کسی اور قوم سے معاہدہ نہ کرے کہ اس میں عہدشکنی ہے جو حرام ہے یا یہ مطلب ہے کہ آزاد کردہ غلام اپنے آزاد کرنے والے مولٰی کا عتاقہ ہے کہ اسے اس غلام

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن