30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یہ خبر دینے والے فضل ابن عبید یعنی ابو برزہ اسلمی تھے،ابن خطل کا نام عبداﷲ اور لقب غالب تھا،یہ پہلے مسلمان ہوا پھر اپنے ایک خادم مسلمان کو قتل کرکے مرتد ہوکر مکہ معظمہ بھاگ آیا تھا،آج ڈر کے مارے غلاف کعبہ میں چھپ گیا،چونکہ آج زمین حرم میں قتال جائز تھا اس لیے اسے قصاصًا یا مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کرا دیا گیا یا تو حرم شریف میں یا وہاں سے باہر نکال کر ورنہ باہر کا مجرم اگر حرم میں آجائے تو اسے قتل نہیں کیا جاتا،رب تعالٰی فرماتا فرماتاہے:"وَمَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا"بعض امام حرم شریف میں حدو قصاص جائز مانتے ہیں اس حدیث کی بنا پر مگر یہ استدلال ضعیف ہے،ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ حضورا نور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میقات سے آگے بغیر احرام نہ بڑھو،نیز فرماتے ہیں کہ میرے لیے ایک ساعت کے واسطے یہ حرم کی زمین حلال کردی گئی تھی اب پھر اس کی حرمت لوٹ آئی۔
|
2719 -[5] وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عمامةٌ سوْداءُ بِغَيْر إِحْرَام. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم فتح مکہ کے دن مکہ معظمہ میں اس طرح تشریف لائے کہ بغیر احرام کے تھے اور آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا ۱؎(مسلم) |
۱؎ یا تو حدود حرم میں داخلہ کے وقت حضور انور نے خود بھی پہنا ہوا تھا یعنی لوہے کی ٹوپی اور عمامہ شریف بھی یا حدود حرم شریف میں داخلہ کے وقت تو خود پہنے تھے اور بیت اﷲ شریف میں یعنی مسجد حرام میں داخلہ کے وقت خود اتار دیا تھا اور عمامہ پہن لیا تھا لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ لباس سفید افضل ہے مگر عمامہ سیاہ بھی جائز ہے،خصوصًا خطبہ کے وقت سارے کپڑے کالے پہننا خصوصًا محرم میں روافض سے تشبیہ ہے۔(ازمرقات مع زیادت)
|
2720 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَغْزُو جَيْشٌ الْكَعْبَةَ فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ وَفِيهِمْ أسواقُهم وَمن لَيْسَ مِنْهُم؟ قَالَ: «يخسف وَآخِرِهِمْ ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ» |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ایک لشکر کعبہ معظمہ پر حملہ کرے گا تو جب میدانی زمین میں ہوں گے تو ان کے اگلے پچھلے سب کو دھنسا دیا جائے گا ۱؎ میں نے عرض کی یارسول اﷲ ان کے اگلے پچھلوں کو کیسے دھنسایا جائے گا ان میں سوداگر بھی ہوں گے اور وہ بھی جو اس لشکر سے نہیں۲؎ فرمایا کہ دھنسایا تو سارے اگلے پچھلوں کو جائے گا پھر اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے ۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا کہ ایک بڑا لشکر بربادی خانہ کعبہ کے لیے مکہ معظمہ پر حملہ کرے گا اور دھنسایاجائے گا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ واقعہ ہوچکا مہدی موعود شاہ سفیان شاہ مصر کے زمانہ میں مگر حق پہلی بات ہے۔
۲؎ اسواق یا تو سوقہ کی جمع ہے بمعنے رعایا اور کام کاج والے یا سوقی کی جمع ہے،بمعنی بازار میں رہنے والے سوداگر۔ سوال کا منشاء یہ ہے کہ مجرم تو ان میں سے بعض ہیں سزا ملی سب کو کیونکہ اس لشکر میں تجارتی کاروبار کرنے والے سپاہیوں کے خدمتگار اور کھانا وغیرہ پکانے والے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو جبرًا لائے گئے ان کی نیت حملے کی نہ تھی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع