30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہاں دوسرے دار الحرب سے ہجرتیں مراد ہیں۔ہوسکتا ہے کہ خبر غیبی ہے کہ اب مکہ معظمہ تا قیامت کبھی دارالحرب نہ بنے گا اور نہ یہاں سے ہجرت فرض ہوگی،الحمدﷲ ایسا ہی ہوا۔
۲؎ یعنی اب جسے جہاد میسر ہو وہ جہاد کرے اور جو جہاد نہ پائے وہ نیت کرے کہ جب مجھے خدا موقع دے گا جہادکروں گا کہ نیت جہادبھی ثواب ہے۔
۳؎ اگر جہاد اس وقت فرض کفایہ ہو تو بقدر ضرورت لوگ نکلیں اور اگر فرض عین ہوگیا ہو تو ہر مرد و زن نکلے یہ کلمہ دونوں صورتوں کو شامل ہے۔
۴؎ یعنی اس شہر پاک کا حرم شریف ہونا صرف اسلام میں نہیں ہے بلکہ بڑا پرانا مسئلہ ہے،ہر دین میں یہ جگہ محترم تھی۔وہ جو باب حرم مدینہ میں آرہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو حرم بنایا وہاں یہ مطلب ہے کہ اس کے حرم ہونے کا اعلان ابراہیم علیہ السلام نے کیا کیونکہ طوفان نوحی میں جب بیت المعمور آسمان پر اٹھالیا تو لوگ یہاں کی حرمت وغیرہ بھول گئے حضرت خلیل نے پھر اس کا اعلان فرمایا لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔(اشعہ)الی یوم القیامۃ فرما کر بتایا کہ یہ حرمت کبھی منسوخ نہ ہوگی کہ جیسے ازلی ہے ویسے ہی ابدی بھی ہے۔
۵؎ اس فرمان عالی میں اشارہ اس واقعہ کی طرف ہے جو فتح مکہ کے دن حضرت خالد ابن ولید سے صادر ہوا کہ ستر۷۰ کفار آپ کے ہاتھوں قتل ہوگئے اس قتل پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو عتاب بھی نہ فرمایا اس کی وجہ یہاں بیان ہوئی کہ اس دن ہمارے لیے ایک ساعت کے قتال بھی حلال ہوگیا اور بغیر احرام مکہ معظمہ میں داخلہ بھی جائز ہوا۔چنانچہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اس وقت سیاہ عمامہ باندھے ہوئے مکہ معظمہ میں داخل ہوئے یعنی بغیر احرام ورنہ سر مبارک کھلا ہوتا۔خیال رہے کہ فتح مکہ مذہب احناف میں غلبہ سے ہوئی اور امام شا فعی کے ہاں صلح سے اسی لیے ان کے ہاں مکہ معظمہ کے مکانات و زمین کی بیع درست اور کرایہ جائز ہے کہ تمام مقامات کفار مکہ کے اپنے رہے جیساکہ صلح میں ہوتا ہے،ہمارے امام صاحب کے ہاں وہاں کی زمین وغیرہ کی بیع و کرایہ درست نہیں کیونکہ ان تمام کے حضور انور مالک ہوگئے تھے کیونکہ فاتح بادشاہ مفتوح علاقہ کا مالک ہوجاتا ہے،حضور انور نے مالک ہوکر وقف فرمادیا،وقف کی نہ بیع ہوتی ہے نہ اجارہ،قول امام اعظم بہت ہی قوی ہے یہ حدیث ان کی دلیل ہے کہ مجھے اس دن قتال درست ہوگیا،صلح میں قتال کیسا،نیز رب تعالٰی نے اسے فتح فرمادیا:"اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ وَ الْفَتْحُ"ا ور فتح جنگ سے ہی ہوا کرتی ہے۔(اشعہ مع زیادت)
۶؎ یعنی حرم کے خود رو درخت تو کیا کانٹے توڑنا بھی جائز نہیں،اذخروکمائت کے سوا وہاں کی سبز گھاس کاٹنا یا اس پر جانور چرانا بھی ہمارے ہاں ممنوع ہے،امام یوسف و شوافع و مالک کے ہاں چرانا درست ہے،امام احمد ہمارے ساتھ ہیں مذہب احناف قوی ہے،یہ حدیث ہماری دلیل ہے حتی کہ ایذاء دینے والا کانٹا بھی ہمارے ہاں نہ کاٹا جائے،خلافًا للشافعی۔
۷؎ یعنی حرم کا شکار مارناتو کیا اسے اس کی جگہ سے ہٹانا بھڑکانا بھی منع ہے اور اگر بھڑکانے سے وہ ضائع ہوجائے تو اس کی قیمت واجب ہوگی۔(اشعہ)
۸؎ اس کے ظاہری معنے یہ ہیں کہ دیگر مقامات کی ملی ہوئی چیز کا کچھ عرصہ تک اعلان کیا جاتا ہے پھر مالک نہ ملنے پر یا خیرات کردی جاتی ہے یا پانے والا اگر فقیر ہو تو خود مالک ہوجاتا ہے مگر حرم شریف کی ملی ہوئی چیز کا اعلان زیادہ کیا جائے گا،ان کی دلیل وہ حدیثیں ہیں جو لقطہ کے بیان میں آئیں گی۔اس فرمان عالی کا منشاء یہ ہے کہ صرف زمانہ حج میں اعلان نہ کرے بلکہ بعد میں بھی اعلان کرتا رہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع