دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۲؎ یعنی گزشتہ سال والے رہے ہوئے حج کی قضا کرے وہ حج خواہ فرض تھا یا نفلی یوں ہی اگر محرم حج کو فاسد کردے تب بھی قضا واجب ہے اگرچہ حج نفل ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر نفلی عبادت شروع کردینے سے فرضی ہوجاتی ہے،امام شافعی حج میں تو اس کے قائل ہیں مگر دیگر عبادات میں قائل نہیں،ان کے ہاں نفلی نماز و روزہ شروع کردینے کے بعد بھی نفل ہی رہتے ہیں کہ توڑ دینے پر قضاء نہیں۔

۳؎ شاید کوئی ان احکام کا منکر تھا اس لیے حضرت ابن عمر نے یہ حکم بیان فرمایا مع دلیل کے۔خیال رہے کہ مفرد کا حج رہ جانے میں صرف حج کی قضا واجب ہوگی قضا کے وقت نہ عمرہ واجب ہوگا نہ ہدی،امام شافعی کے ہاں قربانی واجب ہوگی،اگر قارن کا حج رہ گیا تو وہ عمرہ تو ادا کرے پھر فوت شدہ حج کے لیے عمرہ کرے اس سے قران کی قربانی معاف ہو گئی،اگر متمتع کا حج رہ گیا تو تمتع جاتا رہا۔(مرقات و کتب فقہ)

2711 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ. قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ لَهَا: «لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ؟» قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً. فَقَالَ لَهَا: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي وَقُولِي: اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حبستني "

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ضباعہ بنت زبیر کے پاس تشریف لے گئے ۱؎ تو ان سے فرمایا شاید تم حج کا ارادہ رکھتی ہو۲؎ وہ بولیں اﷲ کی قسم میں تو اپنے کو بیمارپاتی ہوں۳؎ حضور نے ان سے فرمایا حج کو چلو اور یوں کہہ لو کہ الٰہی میرے کھلنے کی جگہ وہ ہی ہے جہاں تو مجھے روک دے ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎  ضباعہ زبیر ابن عبدالمطلب کی بیٹی ہیں یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی چچا زاد بہن،زبیر اسلام نہ لائے تھے، ضباع صحابیہ ہیں، مہاجرات سے ہیں،حضرت مقداد کی زوجہ ہیں۔(اشعہ و مرقات)

۲؎  یعنی ہم نے سنا ہے کہ حجۃ الوداع میں ہمارے ساتھ تم بھی حج کو چلنا چاہتی ہو،یہ واقعہ حجۃ الوداع کی تیاری کے وقت کا ہے۔معلوم ہوا کہ حاجی دوسرے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ حج کو چلنے کی رغبت دے۔

۳؎  یعنی ابھی بیماری سے اٹھی ہوں،کمزور ہوں،اندیشہ ہے کہ سفر سے پھر مرض عود کر آئے اور میں احرام کے بعد حج پورا نہ کرسکوں۔

۴؎ یعنی احرام باندھتے وقت یہ کہہ لینا کہ خدایا اگر میں بعد احرام ادائے حج سے قاصررہوں،بیمار ہو جاؤں تو جہاں بیمار ہوں گی وہاں ہی احرام کھول دوں گی۔اس سے معلوم ہوا کہ احصار مرض سے بھی ہوجاتا ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ احصار دشمن ہی سے نہیں ہوتا مرض سے بھی ہوتا ہے۔خیال رہے کہ زبان سے یہ شرط لگالینا استحبابًا ہے،اگر شرط نہ بھی لگائی ہو تب بھی بیمار محرم احرام کھول سکتا ہے۔ بعض نے فرمایا کہ اس شرط لگانے کا فائدہ یہ ہوگا کہ بیمار فورًا حج سے کھل سکتا ہے،اگر بغیر شرط لگائے ایسا حادثہ پیش آیا دوسرے حجاج کے ہاتھ ہدی بھیجے گا اور ہدی حرم شریف میں ذبح ہوچکنے کے بعد احرام کھولے گا۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2712 -[6]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُبَدِّلُوا الْهَدْيَ الَّذِي نَحَرُوا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ.

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ انہوں نے حدیبیہ کے سال جو قربانیاں دی تھیں ۱؎ عمرہ قضا میں ان کے عوض اور دیں۲؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن