30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2391 -[11] وَعَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ وَمَسَاءِ كُلِّ لَيْلَةٍ بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيَضُرَّهُ شَيْءٌ» . فَكَانَ أَبَانُ قَدْ أَصَابَهُ طَرَفُ فَالَجٍ فَجَعَلَ الرَّجُلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَبَانُ: مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ؟ أَمَا إِنَّ الْحَدِيثَ كَمَا حَدَّثْتُكَ وَلَكِنِّي لَمْ أَقُلْهُ يَوْمَئِذٍ لِيُمْضِيَ اللَّهُ عَلَيَّ قَدَرَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه وَأَبُو دَاوُد وَفِي رِوَايَته: «لَمْ تُصِبْهُ فُجَاءَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ لَمْ تُصِبْهُ فُجَاءَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُمسيَ» |
روایت ہے حضرت ابان ابن عثمان سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایسا کوئی بندہ نہیں جو ہر دن صبح شام اور ہر رات تین بار یہ کہہ لیا کرے میں نے اس کے نام سے صبح و شام کی جس کے نام کی برکت سے نہ زمین کی کوئی چیز نقصان دے نہ آسمان کی اور وہ سنتا جانتا ہےپھر اسے کوئی چیز نقصان بھی دے دے۲؎ حضرت ابان کو کچھ فالج ہوگیا تو ایک شخص انہیں غور سے دیکھنے لگا۳؎ آپ نے اس سے فرمایا کہ تو مجھے کیا دیکھتا ہےحدیث ویسی ہے جیسی میں نے تجھے سنائی لیکن اس دن میں یہ دعا نہ پڑھ سکا کہ اﷲ مجھ پر اپنی قضا قدر نافذ کردے ۴؎ (ترمذی،ابن ماجہ،ابواؤد)ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ اسے صبح بلاء ناگہانی نہ پہنچے گی اور جو صبح کو یہ پڑھے تو اسے شام تک آفت ناگہانی نہ پہنچے گی ۵؎ |
۱؎ آپ قرشی ہیں،تابعی ہیں،حضرت عثمان ابن عفّان کے فرزند ہیں،اپنے والد اور دیگر صحابہ سے بہت سی احادیث لیں اور ان سے امام زہری وغیرہ اکابر ملت نے،مدینہ منورہ میں قیام رہا، یزید ابن عبدالملک ابن مروان کے زمانہ میں وفات پائی۔
۲؎ یہ دعا مجرب ہے،فقیر بفضل رب قدیر اس کا عامل ہے،الحمدﷲ اس کی برکت سے ہرآفت سے امن رہا ہے،صبح پڑھ لو شام تک حفاظت ہے اور شام کو پڑھو تو صبح تک امن۔
۳؎ یعنی جن لوگوں نے آپ سے یہ حدیث سنی تھی ان سے کوئی تعجب کرکے آپ کو دیکھنے لگا کہ آپ تو یہ حدیث روایت کرتے تھے اور یقین ہے کہ آپ اس پر عامل بھی ہوں گے اور یہ دعا پڑھتے بھی ہوں گے پھر آپ پر فالج کا اثر کیوں ہوگیا اور اس آفت سے آپ امن میں کیوں نہ رہے،حضرت ابان ان کا تعجب سمجھ گئے اس لیے آپ نے وہ جواب دیا جو آگے آرہا ہے۔
۴؎ سبحان اﷲ! کیا پاکیزہ فرمان ہے کہ حدیث سچی حدیث والے محبوب سچے ارادۂ الٰہی برحق،جس دن مجھے فالج ہونے والا تھا اس دن میں یہ عمل پڑھنا ہی بھول گیا تھا اس لیے یہ فالج ہوا۔
۵؎ یہ الفاظ گزشتہ الفاظ کی گویا شرح ہے کہ اس دعا کی برکت سے ناگہانی بیماری اور زہریلے جانور کے کاٹنے اور دوسری اچانک آفتوں سے حفاظت رہتی ہے دوسری قسم کی مصیبت آسکتی ہے۔خیال رہے کہ کسی دعا سے موت نہیں ٹل سکتی وہ تو یقینی آتی ہے جسے کوئی تدبیر نہیں ٹال سکتی نہ دعا،نہ دوا۔ یہاں مرقات نے فرمایا کہ فجاءت سے مراد کوئی بڑی آفت ہے جو انسان کو گھبرا دے،اچانک ہو یا آہستہ،معمولی تکالیف و بیماریاں تو انسان کو لگی ہی رہتی ہیں۔
|
2392 -[12] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَمْسَى: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَمِنْ سُوءِ الْكِبَرِ أَوِ الْكُفْرِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مِنْ سُوءِ الْكِبَرِ وَالْكِبْرِ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ» . وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَتِهِ لم يذكر: «من سوءِ الكفرِ» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ۱؎ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم شام کے وقت یہ پڑھتے تھے ہم نے اور اﷲ کے سارے ملک نے شام پالی۲؎ اﷲ کا شکر ہے،اکیلے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں،اس کا ملک ہے،اسی کی تعریف ہے ۳؎ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔الٰہی میں تجھ سے اس رات کی بھلائی،اس کے بعد کی بھلائی مانگتا ہوں اور اس رات کی شر اور اس کے بعد کی شر سے پناہ مانگتا ہوں ۴؎ یارب میں سستی اور بڑھاپے برے ۵؎ یا کفر سے اور ایک روایت ہے کہ برے بڑھاپے اور تکبر سے تیر ی پناہ مانگتا ہوں ۶؎ یارب میں آگ کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتاہوں ۷؎ اور جب سویرا پاتے تو بھی کہتے کہ ہم نے اور اﷲ کے سارے ملک نے صبح پالی۔(ابوداؤد،ترمذی)اور ایک روایت میں کفر کی ہر بر ائی کا ذکر نہ فرمایا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع