دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

2684 -[7] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن أَبِي أَيُّوبَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم بحالت احرام اپنا سر مبارک دھولیتے تھے ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  احرام کی حالت میں سرمحض پانی سے دھونا جائز ہے جب کہ بال نہ ٹوٹے،خطمی سے دھونے میں قربانی واجب ہے۔(حنفی،مالکی)اشنان یا خوشبودار چیز سے دھونے میں صدقہ واجب ہے،بیری،صابن سے دھونا جائز ہے۔

2685 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ محرم

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بحالت احرام پچھنے لگوائے ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ محرم کو پچھنے لگوانے بھی جائز ہیں جب کہ بال نہ ٹوٹے،کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا کہ محرم کو اپنا سریا بدن کھجلانا کیسا ؟ تو آپ نے فرمایا جائز ہے مگر بال نہ ٹوٹنے پائے۔(مرقات)

2686 -[9]

وَعَن عُثْمَان حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ وَهُوَ محرمٌ ضمدهما بِالصبرِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عثمان سے آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس شخص کے بارے میں حدیث نقل کی جس کی آنکھیں دکھتی ہوں اور وہ محرم ہو کہ ایلوے سے لیپ کرے ۱؎(مسلم)

۱؎ چونکہ ایلوے میں کوئی خاص خوشبو یا مہک نہیں اس لیے دواءً اس کا استعمال جائز ہے مگر خوشبودار سرمہ یا دوا لگانا ممنوع ہے جس سے صدقہ واجب ہوگا،مہندی لگانا محرم کو منع ہے کہ اس میں خوشبو ہے۔

2687 -[10]

وَعَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَتْ: رَأَيْتُ أُسَامَةَ وَبِلَالًا وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ من الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضر ت ام الحصین سے فرماتی ہیں میں نے حضرت اسامہ و بلال کو دیکھا کہ ان میں سے ایک رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھے اور دوسرے صاحب اپنا کپڑا تانے ہوئے تھے ۱؎  آپ کو گرمی سے بچاتے تھے حتی کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی ۲؎(مسلم)

۱؎ حضرت بلال تو اونٹنی کی مہار پکڑے تھے اور حضرت اسامہ سر انور پر سایہ کئے ہوئے تھے۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اپنے خدام سے خدمت لینا جائز ہے خواہ خدام تنخواہ دار نوکر ہوں،یا اپنے شاگرد،مرید،معتقد۔ دوسرے یہ کہ محرم بحالت احرام چھتری، خیمہ،چادر کا سایہ لے سکتا ہے بشرطیکہ یہ چیزیں اس کے سر سے علیحدہ رہیں،روافض کے ہاں چھتری وغیرہ سے سایہ لینا بھی محرم کو درست نہیں۔

۲؎   اس میں یہ تصریح نہیں کہ یہ رمی دسویں بقر عید کی تھی،ممکن ہے کہ بعد والے دنوں کی ہو۔(مرقات)

2688 -[11] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ وَالْقَمْلُ تهافت عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ: «أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟» . قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ» . وَالْفَرَقُ: ثَلَاثَةُ آصُعٍ: «أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّام أوانسك نسيكة»

روایت ہے حضرت کعب ابن عجرہ سے ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ان پرگزرے جب کہ وہ مقام حدیبیہ میں تھے مکہ معظمہ داخل ہونے سے پہلے ۲؎  وہ محرم تھے اور ہانڈی کے نیچے آگ جلارہے تھے اور جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں ۳؎  تو فرمایا کیا تمہیں جوئیں دکھ دے رہی ہیں عرض کیا ہاں فرمایا تو اپنا سر منڈا دو اور ایک فرق(تین صاع)۴؎  دانے مسکینوں میں بانٹ دو ۵؎ فرق تین صاع کا ہوتا ہے یا تین دن کے روزے رکھ لو یا قربانی دے دو ۶؎(مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن