30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ چونکہ اس خوشبو میں زعفران ہوتا ہے رنگت دیتی ہے اس لیے مرد کو بہرحال ممنوع ہے اسی لیے اس کے دھو ڈالنے کا حکم دیا ورنہ محرم اگر احرام سے پہلے خوشبو لائے پھر احرام باندھے وہ خوشبو باقی ہو تو کوئی مضائقہ نہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا۔جن لوگوں نے اس حدیث کی بنا پر احرام سے پہلے والی خوشبو کو بھی منع کیا انہوں نے غلطی کی۔
۵؎ یعنی جن چیزوں سے حج میں بچتے ہو ان سے ہی عمرہ میں بچو یا جیسے طواف و سعی حج میں کرتے ہو عمرے میں بھی کرو،یہ مطلب نہیں کہ عمرہ میں حج کے سارے ارکان ادا کرو۔خیال رہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے ہاں اگر بھول کر بھی اس قسم کی غلطی کرے تو بھی اس پر فدیہ ہے دیگر آئمہ کے ہاں بھول میں فدیہ نہیں،یہ حدیث ان بزرگوں کی دلیل ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فدیہ کا حکم نہ دیا مگر ظاہر ہے کہ کسی چیز کا ذکر نہ ہونا اس کی دلیل نہیں،عدم ثبوت اور ہے ثبوت عدم کچھ اور۔
|
2681 -[4] وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنكِحُ وَلَا يَخْطُبُ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے محرم نہ نکاح کرے نہ کرائے اور نہ نکاح کا پیغام دے ۱؎(مسلم) |
۱؎ یہ حدیث امام شافعی و دیگر ان اماموں کی دلیل ہے جو فرماتے ہیں کہ بحالت احرام نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے،ہمارے امام اعظم کے نزدیک یہ نہی تنزیہی ہے یا لا ینکح نفی مضارع کا صیغہ ہے یعنی بحالت احرام محرم اپنے ارکان ادا کرنے میں مشغول رہتا ہے اور دنیاوی کاموں میں پھنستا نہیں،یہاں کاموں کے لیے نہیں آیا ہے،ان کاموں کے لیے اور وقت ہیں اس لیے کہ خود حضورانور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت میمونہ سے بحالت احرام نکاح کیا ہے جیساکہ اگلی حدیث میں ہے۔بہرحال یہ کراہت تنزیہی ہے اور نکاح کرنے سے مراد ان کاموں میں پھنسنا ہے۔ (مرقات،اشعہ،لمعات)ورنہ ظاہر حدیث ان حضرات کے بھی خلاف ہے کیونکہ ان کے ہاں محرم کو نکاح کرنا حرام ہے،نکاح کی وکالت یا پیغام کو وہ بھی حرام نہیں فرماتے لہذا مذہب حنفی قوی ہے اور یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں۔
|
2682 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ محرم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بی بی میمونہ سے بحالت احرام نکاح کیا ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ نکاح عمرہ قضا میں ہوا،بمقام سرف جو مکہ معظمہ سے قریبًا چھ میل فاصلہ پر ہے وادی فاطمہ کے قریب۔ خیال رہے کہ حضرت میمونہ ہ بنت حارث ہلالیہ ہیں،ان کی سگی بہن لبابہ کبریٰ ام الفضل حضرت عباس کے نکاح میں ہیں اور اخیافی بہن اسماء بنت عمیس حضرت جعفر کے نکاح میں اور دوسری اخیافی بہن سلمٰی بنت عمیس جناب حمزہ کے نکاح میں ہیں، لہذا حضرت میمونہ ابن عباس کی سگی خالہ ہیں،حضرت میمونہ کے اس نکاح میں حضرت عباس وکیل میمونہ تھے،انہوں نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے آپ کا نکاح کیا،واپسی پر اسی مقام میں زفاف ہوا ا ور اسی جگہ حضرت میمونہ کی وفات و قبر ہوئی لوگ زیارت کرتے ہیں۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ اس نکاح کا حال جس قدر حضرت ابن عباس کو معلوم ہوسکتا ہے دوسرے کو نہیں کہ یہ خود ان کی خالہ کا معاملہ ہے اور آپ کے والد ماجد اس نکاح میں وکیل ہیں،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ محرم بحالت احرام نکاح کرسکتا ہے،یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے اور گزشتہ بیان استحباب کے لیے،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
|
2683 -[6] وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ابْنِ أُخْتِ مَيْمُونَةَ عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَالَ الشيخُ الإِمَام يحيى السّنة: وَالْأَكْثَرُونَ عَلَى أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا حَلَالًا وَظَهَرَ أَمْرُ تَزْوِيجِهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ ثُمَّ بَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَال بسرف فِي طَرِيق مَكَّة |
روایت ہے حضرت یزید ابن الاصم سے جو حضرت میمونہ کے بھانجے ہیں ۱؎ وہ جناب میمونہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت میمونہ سے بحالت حلال نکاح کیا ۲؎(مسلم)حضرت شیخ امام محی السنہ فرماتے ہیں کہ اکثر علماء اس پر ہیں کہ حضور انور نے ان سے نکاح تو بحالت حلال کیا مگر بحالت احرام نکاح کا حال کھلا پھر مکہ معظمہ کے راستہ میں مقام سرف میں آپ سے زفاف حلال ہو کر کیا۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع