30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ چونکہ پہلا حکم صرف مردوں کو تھا اور یہ حکم مرد و زن سب کو اسی لیے لا تلبسوا مکرر ارشاد ہوا اور ورس عرب کی ایک مشہور گھاس ہے جس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں،اس کا رنگ بھی زعفران کی طرح پیلا ہوتا ہے،یعنی کوئی محرم مرد ہو یا عور ت زعفران یا ورس میں رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے،یہاں پہننے سے مراد استعمال کرنا ہے لہذا اس رنگ کی چادر،تہبند بھی استعمال نہیں کرسکتا۔
۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ محرم عورت سر پر کپڑا ڈال سکتی ہے مگر منہ پر نقاب نہیں ڈال سکتی،جب کہ نقاب منہ سے متصل ہو،اگر منہ سے دور رہے تو جائز ہے،ایسے ہی اگر پنکھا وغیرہ آڑ کرکے منہ چھپالے تو کوئی بھی حرج نہیں جیسے مرد کے سر کے لیے چھتری یا جبہ۔
|
2679 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: «إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُحْرِمُ نَعْلَيْنِ لَبَسَ خُفَّيْنِ وَإِذَا لَمْ يَجِدْ إِزَارًا لَبَسَ سَرَاوِيل» |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو خطبہ دیتے سنا آپ فرماتے ہیں کہ جب محرم جوتے نہ پائے تو موزے پہن لے اور جب تہبند نہ پائے تو پائجامہ پہن لے ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ اس کا مطلب احناف کے یہاں یہ ہے کہ جس محرم کے پاس جوتا نہ ہو وہ موزے کاٹ کر پہنے جیساکہ پہلے گزر گیا مگر صدقہ پھربھی دینا ہوگا اور اگر تہبند نہ ہوتو پائجامہ چادر کی طرح لپیٹ لے اس میں فدیہ نہیں،اگر پائجامہ عادت کے مطابق پہنا تو دم یعنی قربانی دینا ہوگی، دوسرے اماموں کے ہاں اس کے اور معانی ہیں،امام شافعی کے ہاں موزے کاٹ کرپہننے میں فدیہ بھی نہیں۔
|
2680 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالجعرانة إِذْ جَاءَ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَهَذِهِ عَلَيَّ. فَقَالَ: «أَمَا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ» |
روایت ہے حضرت یعلٰی ابن امیہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مقام جعرانہ میں تھے ۲؎ کہ آپ کے پاس ایک بدوی حاضر ہوئے جن پر قبا تھی اور وہ خلوق خوشبو میں لتھڑے ہوئے تھے ۳؎ تو بولے یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور مجھ پر یہ ہے فرمایا اپنی خوشبو تو تین بار دھوڈالو ۴؎ رہا جبہ تو اسے اتار ڈالو،پھر عمرہ میں وہ ہی کرو جو حج میں کرتے ہو ۵؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،فتح کے دن ایمان لائے،غزوہ حنین و طائف میں حاضر ہوئے،تمیمی ہیں،حنظلی ہیں،جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ تھے،اسی میں شہید ہوئے۔
۲؎ یہ جگہ حرم شریف سے خارج ہے،طائف کے راستہ پر ہے،آج کل اس کا نام سہل ہے،فقیر وہاں دوبار حاضر ہوا ہے۔بعض آئمہ کے ہاں عمرہ کا احرام جعرانہ سے باندھنا افضل ہے،ہمارے امام اعظم کے ہاں تنعیم سے باندھنا بہتر کہ جعرانہ سے احرام کا عمل حضور نے فرمایا تھا اور تنعیم سے احرام باندھنے کا حضرت عائشہ صدیقہ کو حکم دیا اور حکم عمل سے اعلٰی ہوتا ہے،اب تنعیم والے عمرہ کو چھوٹا عمرہ کہتے ہیں اور جعرانہ والے کو بڑا عمرہ۔
۳؎ خلوق عرب کی مشہور خوشبو ہے جس میں زعفران ہوتا ہے بہت مہکتی ہے اور رنگت بھی رکھتی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع