30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ازواج پاک کو طواف کرانے کا تذکرہ یا ازواج پاک کو یہ طواف گیارھویں یا بارھویں کو کرایا،یہاں اسی کا ذکر ہے،بہرحال یہ حدیث واجب التاویل ہے۔ (مرقات وغیرہ)
۲؎ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ دسویں بقر عید کو صرف جمرہ عقبہ کی رمی ہوگی اور زوال سے پہلے،پھر باقی گیارھویں بارھویں کو تینوں جمروں کی رمی ہوگی مگر زوال کے بعد آج کل حجاج بارھویں کو زوال سے پہلے ہی جمروں کی رمی کر کے مکہ معظمہ روانہ ہوجاتے ہیں،یہ سخت برا ہے خلاف سنت ہے،جب حج کرنے اتنی دور سے اتنا خرچ کر کے آئے ہو تو اچھی طرح کرو کہ کوشش کرو کہ دسویں کو طواف زیارت کرلو تاکہ آج بارھویں کو بھاگنا نہ پڑے۔
۳؎ صرف اﷲ اکبر یا بسم اﷲ اﷲ اکبر اس کی تحقیق پہلے ہوچکی ہے۔
۴؎ یہ ہی سنت ہے کہ آخری جمرہ کی رمی کے بعد وہاں نہ ٹھہرے پہلے دو جمروں کی رمی کے بعد ٹھہرے اور وہاں دعائیں مانگے،اس کی حکمتیں پہلے عرض ہوچکی ہیں۔
|
2677 -[19] وَعَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ عَن أَبِيه قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم لرعاء الْإِبِل فِي البيتوتة: أَن يرملوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ فَيَرْمُوهُ فِي أَحَدِهِمَا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ |
روایت ہے حضرت ابو البداح ابن عاصم ابن عدی سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اونٹ چرانے والوں کو شب گزاری کی اجازت دی ۲؎ کہ بقر عید کے دن رمی کرلیں پھر بقر عید کے بعد دو دن کی رمی جمع کرلیں اس طرح کہ ان دونوں میں سے ایک ہی رمی کریں ۳؎(مالک،ترمذی، نسائی)اور ترمذی نے فرمایا حدیث صحیح ہے۔ |
۱؎ مرقات نے فرمایا کہ ابن عاصم ابوالبداح کا بدل ہے اور ان کی کنیت ابو عمرو ہے،ابوالبداح لقب ہے،آپ اپنے لقب میں مشہور ہوگئے ہیں،بعض کے خیال آپ تابعی ہیں مگر حق یہ ہے کہ صحابی ہیں جیسا کہ ابن عبدالبر نے فرمایا۔
۲؎ کہ منٰی کے زمانہ میں راتیں اپنے گھر گزاریں،منٰے میں رات گزارنا ان پر لازم نہیں۔
۳؎ اس کی صورت یہ ہے کہ بقرعید کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کرلیں،گھر چلے جائیں،گیارھویں کو نہ آئیں،بارھویں کو دونوں دنوں یعنی گیارھویں بارھویں کی رمی کرلیں۔امام شافعی و مالک بلکہ امام اعظم کے ہاں بھی تقدیم جائز نہیں بلکہ تاخیر جائز ہے،یعنی گیارھویں کو دونوں دن کی رمی نہ کریں بلکہ بارھویں کو کریں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع