30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2674 -[16] وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة وَقَالَ: إِسْنَاده ضَعِيف 2675 -[17] وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَالنَّسَائِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كلُّ شيءٍ إِلا النساءَ» |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب کوئی جمرہ عقبہ کی رمی کرے تو اس کے لیے بیوی کے سوا ہرچیز حلال ہوگئی ۱؎(شرح سنہ)اور فرمایا کہ اس کی اسناد ضعیف ہے اور احمد و نسائی کی روایت میں حضرت ابن عباس سے یوں ہے کہ خود ان ہی نے فرمایا کہ جب جمرہ کی رمی کرے تو عورتوں کے سوا سب حلال ہے ۲؎ |
۱؎ یعنی جب حاجی دسویں بقرعید کو جمرہ عقبہ کی رمی کرچکے تو جو چیزیں احرام سے حرام ہوچکی تھیں وہ تمام حلال ہو گئیں،ہاں ابھی بیوی سے صحبت حلال نہ ہوئی یہ تو طواف زیارت سے حلال ہوگی۔امام اعظم رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہاں نساء سے مراد اپنی بیوی سے صحبت ہے،امام شافعی کے ہاں اس سے مراد عورت سے نکاح کرنا ہےکیونکہ ان کے ہاں احرام میں نکاح کرنا بھی حرام ہے طواف زیارت کے بعد حلال ہوتا ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ جمرہ عقبہ کی رمی سے مراد رمی مع ملحقات ہے،یعنی سر منڈانا و قربانی کرنا کہ ان تین کاموں سے ہر چیز حلال ہوتی ہے اور یہ دونوں چیزیں رمی کی ملحقات سے ہیں لہذا رمی کے بعد سرمنڈانے اور قربانی سے پہلے سلے کپڑے اور خوشبو استعمال نہیں کرسکتا۔
۲؎ یعنی احمد و نسائی نے حضرت عبداﷲ ابن عباس کا خود اپنا قول نقل کیا،مرفوع حدیث نقل نہ کی مگر اس قسم کی موقوف حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے۔خیال رہے کہ احرام سے فارغ ہونے پر حجامت ہمارے ہاں واجب ہے،امام شافعی رضی اللہ عنہ کے ہاں سنت، ہماری دلیل رب تعالٰی کا یہ فرمان ہے:" ثُمَّ لْیَقْضُوۡا تَفَثَہُمْ"۔اس سے مراد حجامت ہے اور رب تعالٰی کا یہ فرمان:"اٰمِنِیۡنَ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمْ وَ مُقَصِّرِیۡنَ" مگر چونکہ یہ استدلال ظنی ہے اس لیے اس سے وجوب ثابت ہے نہ کہ فرضیت۔
|
2676 -[18] وَعَنْهَا قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ فَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دن کے آخری حصہ میں جب کہ ظہر پڑھ چکے تو طواف زیارت کیا پھر منٰی لوٹ آئے ۱؎ پھر تشریق کے زمانہ میں وہاں ہی قیام فرمایا کہ سورج ڈھل جانے پر جمرہ کی رمی کرتے تھے ۲؎ ہر جمرہ کی ساتھ کنکریوں سے ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے ۳؎ پہلے اور دوسرے جمروں کے پاس کچھ ٹھہرتے تھے تو دراز قیام کرتے تھے عاجزی زاری کرتے تھے اور تیسرے جمرہ کی رمی کرتے تو وہاں نہ ٹھہرتے ۴؎ (ابوداؤد) |
۱؎ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے طواف زیارت نماز ظہر پڑھ کر کیا بلکہ یہ کہ ظہر منٰی میں پڑھی،پھر مکہ معظمہ تشریف لے گئے مگر پہلےگزرچکا کہ حضور انور نے نماز ظہر سے پہلے طواف کیا بعد میں ظہر پڑھی مکہ معظمہ میں یا منٰی واپس آکر ،اس لیے بعض شارحین نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ حضور انور نے ظہر سے پہلے تو خود آپ طواف زیارت کیا پھر بعد نماز ظہر اپنی ازواج مطہرات کو طواف کرانے لے گئے،دسویں بقر عید کو دوبارہ مکہ معظمہ تشریف لائے،ان گزشتہ احادیث میں اپنے طواف کرنے کا ذکر ہے اور یہاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع