دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

2670 -[12]

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قَالُوا: يَوْمُ النَّحْر الْأَكْبَرِ. قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلا لَا يجني جانٍ عَلَى نَفْسِهِ وَلَا يَجْنِي جَانٍ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ أَلَا وَإِنَّ الشَّيْطَانَ قد أَيسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَدًا وَلَكِنْ ستكونُ لهُ طاعةٌ فِيمَا تحتقرونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ فَسَيَرْضَى بِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيّ وَصَححهُ

روایت ہے حضرت عمرو ابن احوص سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا یہ کون دن ہے صحابہ نے عرض کیا حج اکبر کا دن ۱؎ فرمایا تمہارے خون تمہارے مال تمہاری آبروئیں آپس میں ایک دوسرے پر ایسے حرام ہیں جیسے اس شہر میں اس دن کی حرمت ۲؎ خبردار کوئی مجرم اپنی جان پر ظلم نہ کرے۳؎ خبردار کوئی مجرم اپنی اولاد پر ظلم نہ کرے اور نہ کوئی فرزند اپنے باپ پر ۴؎ خبردار شیطان اس سے تو مایوس ہوچکا کہ تمہارے اس شہر میں کوئی اسے پوجے ۵؎ مگر جن گناہوں کو تم معمولی سمجھتے ہو ان میں اس کی اطاعت ہوجایا کرے گی جس سے وہ راضی ہوتا رہے گا ۶؎(ابن ماجہ،ترمذی)اور ترمذی نے اسے صحیح کہا۔

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ بعض صحابہ نے یہ جواب دیا اور بعض نے عرض کیا  اﷲ ورسولہ اعلم! یا یہ کوئی دوسرا واقعہ ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ صحابہ نے اﷲ و رسولہ اعلم کہا۔حج اکبر کے بہت سے معانی ہیں:(۱) بقر عید کا دن حج اکبر ہے کیونکہ اکثر ارکان حج اسی دن میں ہوتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:" وَ اَذٰنٌ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖٓ اِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الۡاَکْبَرِ"۔یہ اعلان بقرعید کے دن منٰی میں ہوا۔(۲) یا نویں عید کا دن حج اکبر کا دن ہے کہ اسی دن قیام عرفات ہے جو حج کا رکن اعلٰی ہے(۳) یا صرف حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا حج حج اکبر تھا کہ رسول اکبر نے حج فرمایا تھا اور حسن اتفاق سے اس دن یہود،نصاریٰ مجوسی وغیرہ کی چھ عیدیں جمع ہوگئیں تھیں (۴) یا جب نویں بقر عید جمعہ کوواقع ہو کہ اس کا ثواب ستر۷۰ حج کے برابر ہے یہ زیادہ مشہور ہے اور حضورا نور صلی اللہ علیہ و سلم کا حج بھی جمعہ ہی کا ہوا تھا(۵)یا ہر حج اکبر ہے اور عمرہ حج اصغر غرضکہ اس کے بہت معانی ہیں(مرقات،لمعات،اشعہ)

۲؎ یعنی جیسے مکہ معظمہ میں ان حج کی تاریخوں میں احرام کی حالت میں گناہ کرنا حرام کہ اس گناہ میں حرم شریف،مبارک تاریخ اور احرام کی بے حرمتی تین جرم اور شامل ہوجاتے ہیں،ایسے ہی کسی مسلمان بھائی کا ناحق خون کرنا،مال مارنا،بے آبروئی کرنا بہت سے جرموں کا مجموعہ ہے کہ اس میں اس مظلوم بندہ کی حق تلفی بھی رب تعالٰی کی قانونی شکنی اور میرے مخالفت ہے مجھے اپنی امت بہت عزیز ہے،اسے ستانے والا مجھے کب پیارا ہوسکتا ہے۔

۳؎ یعنی خود کشی نہ کرے کہ یہ اپنی جان پرظلم و زیادتی ہے یا دوسرے مسلمانوں پرظلم نہ کرے کہ یہ درحقیقت اپنے پر ظلم ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا تَقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ"یعنی اپنے کو قتل نہ کرو یعنی بعض بعض کو قتل نہ کرے۔لا یَجنِی صیغہ تو نفی کا ہے مگر بمعنی نہی ہے،جیسے"لَا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الْمُطَہَّرُوۡنَ"یا جیسے رحمہ اﷲ یا غفرلہ کہ سب خبریں بمعنی انشاء ہیں۔

۴؎ یہ جملہ یا تو نہی ہے تو معنے یہ ہیں کہ ماں باپ اولاد پر ظلم نہ کریں کہ ان کا حق نہ دیں،انہیں تعلیم وغیرہ سے محروم رکھیں اور اولاد ماں باپ پرظلم نہ کرے کہ ان کا ادائے حق خدمت نہ کرے یا بمعنی نفی یعنی ماں باپ کے جرم میں اولاد گرفتار نہ ہوگی اور اولاد کے جرم میں ماں باپ کو پکڑ نہ ہوگی اپنی کرنی،اپنی بھرنی"اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی"اہل جاہلیت باپ کا بدلہ اولاد سے اور اولاد کا بدلہ ماں باپ سے لیتے تھے اسی سے ممانعت ہے۔

۵؎ شیطان کو پوجنے سے مراد بت پرستی ہے اور اس میں غیبی خبر ہے،ان شاءاﷲ مکہ معظمہ میں تا قیامت شرک و بت پرستی نہ ہوگی۔مرقات نے فرمایا کہ علانیہ نہ ہوگی کوئی خفیۃً وہاں جاکر چھپ کر بت پرستی کرے تو اس کی بدنصیبی ہے،غرضکہ یہ جگہ شرک سے محفوظ ہے۔

۶؎ یعنی مکہ معظمہ میں مسلمان گناہ،لڑائی،چوری،غیبت جھوٹ وغیرہ کرلیا کریں گے اور شیطان اس پر خوش ہوجایا کرے گا کہ میں ان سے کفر تو نہ کراسکا یہ غنیمت ہے یا سارے مسلمانوں سے روئے سخن ہے کہ مؤمن کے گناہوں سے شیطان راضی ہے اور کافر کے کفر سے راضی اسی لیے جھوٹ،خیانت دوسرے گناہ مسلمانوں میں زیادہ ہیں دوسری قوموں میں کم کہ شیطان کفار سے جب کفر کرالیتا ہے تو پھر دوسرے گناہ کرانے کی کوشش نہیں کرتا مگر جب مسلمانوں سے کفر نہیں کراسکتا تو ان سے دوسرے گناہ کرانے کی بہت کوشش کرتا ہے،ہمیشہ چور بھرے گھر میں جاتا ہے جس میں ہو ہی کچھ نہیں وہاں چور لے گا کیا۔حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ جس

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن