30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2667 -[9] وَعَنْهَا قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم بالأبطحِ حَتَّى فَرَغْتُ فَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ. هَذَا الْحَدِيثُ مَا وَجَدْتُهُ بِرِوَايَةِ الشَّيْخَيْنِ بَلْ بِرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ مَعَ اخْتِلَاف يسير فِي آخِره |
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میں نے مقام تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا پھر میں مکہ معظمہ آئی اپنا عمرہ پورا کیا ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مقام ابطح میں میرا انتظار فرمایا حتی کہ میں فارغ ہوگئی ۲؎ پھر لوگوں کو کوچ کا حکم دیا پھر آپ وہاں سے آئے تو بیت اﷲ شریف پر گزرے فجر سے پہلے اس کا طواف کیا ۳؎ پھر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے میں نے یہ حدیث مسلم،بخاری کی روایت سے نہ پائی بلکہ آخر میں تھوڑے اختلاف کے ساتھ ابوداؤد کی روایت سے پائی ۴؎ |
۱؎ ام المؤمنین کا یہ عمرہ وہ ہے جو حج سے پہلے رہ گیا تھا کہ عمرہ کا احرام تھا مگر بوجہ ماہواری عارضہ کے ادا نہ ہوسکا،اب بعد میں کیا گیا، چونکہ عمرہ کا احرام حرم سے باہر باندھتا ہے اس لیے آپ مقام تنعیم گئیں جو حدود حرم سے باہر مکہ معظمہ سے تین میل دور جگہ ہے،اب یہاں مسجد عائشہ ہے عام حجاج عمرہ کا احرام باندھنے وہاں جاتے ہیں۔
۲؎ ام المؤمنین حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے محصب میں قیام فرمانے کی یہ دوسری وجہ بیان فرمارہی ہیں کہ یہاں حضور انور نے میرے عمرہ کے انتظار میں قیام فرمایا تھا مقصد وہی ہے کہ یہ قیام سنت حج نہیں۔
۳؎ یہ طواف وداع تھا جس کو مکہ معظمہ سے چلتے وقت حجاج اداکرتے ہیں نہ اس میں رمل ہے نہ اس کے بعد سعی،یہ طواف کرکے وہاں سے روانہ ہوجاتے ہیں۔غالبًا حضور انور نے یہ طواف تو نماز فجر سے پہلے کیا ہوگا مگر وہاں سے روانگی بعد فجر اشراق و سنت،طواف ادا کرکے کی ہوگی۔(مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ صرف طواف کر کے روانہ ہوگئے ہوں اور کچھ راستہ طے کر کے فجر پڑھی ہو وہاں ہی نفل طواف ادا کئے ہوں،طواف کے نفل ہر جگہ درست ہیں۔
۴؎ اس جملہ میں صاحب مصابیح پر دو اعتراض ہیں:ایک یہ کہ فصل اول میں وہ مسلم،بخاری کے علاوہ حدیث لائے۔دوسرے یہ کہ حدیث ابوداؤد میں تو ہے مگر اس کے الفاظ بعینہ یہ نہیں ان میں کچھ فرق ہے،مصنف یہاں مسلم،بخاری کی روایت لاتے یا ابوداؤد کی روایت بعینہ ان ہی الفاظ سے لاتے جن میں وہاں موجود ہے۔
|
2668 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْحَائِضِ» |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ لوگ ہر طرف چل دیتے تھے ۱؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تم میں سے کوئی واپس نہ ہو حتی کہ اس کا آخری کام بیت اﷲ سے ہو ۲؎ مگر حائضہ سے یہ حکم ہلکا کردیا گیا۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی پہلے حجاج رخصت کے وقت طواف وداع نہ کرتے تھے یوں ہی چلے جاتے تھے۔من کُلّ وجہٍ کے معنے ہیں ہر طرف سے ہر محلہ سے روانہ ہوجاتے تھے یہ گویا بے قاعدگی سی تھی۔
۲؎ یعنی بیت اﷲ کا طواف کرکے مکہ معظمہ سے روانہ ہؤو تاکہ تمہاری آمد طواف سے ہو اور روانگی بھی طواف سے،یہی حال مدینہ منورہ کا ہے کہ حجاج پہنچتے ہی سلام عرض کرتے ہیں اور چلتے وقت سلام وداع کر کے چلتے ہیں،اس وقت جو دل کی کیفیت ہوتی ہے بیان نہیں ہو سکتی۔
بدن سے جاں نکلتی ہے آہ سینہ سے ترے فدائی نکلتے ہیں جب مدینہ سے
۳؎ یعنی حائضہ و نفساء عورت طواف وداع کےلیے حیض بند ہونے کا انتظار نہ کرے بلکہ یوں ہی چلی جائے ورنہ بہت دشواری ہوگی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع