30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2665 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ: سألتُ أنسَ بنَ مالكٍ. قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يومَ الترويةِ؟ قَالَ: بمنى. قلت: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ. ثُمَّ قَالَ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ |
روایت ہے حضرت عبدالعزیز ابن رفیع سے فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک سے پوچھا میں نے کہا مجھے وہ چیز بتائیے جو آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے سمجھی یاد کی ہو،حضور انور نے آٹھویں بقرعید کو ظہر کہاں پڑھی ۱؎ فرمایا منٰی میں ۲؎ عرض کیا پھر واپسی کے دن عصر کہاں پڑھی فرمایا مقام ابطح میں ۳؎ پھر فرمایا جیسا تمہارے امیرکریں ویسا تم بھی کرو ۴؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی حضور نے آٹھویں بقرعید کو فجر تو مکہ معظمہ میں پڑھی،فرمایئے ظہرکہاں پڑھی۔
۲؎ معلوم ہوا کہ آٹھویں بقر عید کو بعد نماز فجر مکہ معظمہ سے منٰی روانہ ہوجانا سنت ہے ظہر منٰی میں پڑھے۔
۳؎ واپسی کے دن دو ہیں:نفراول یہ دسویں بقر عید کو ہے جب منٰی سے مکہ معظمہ طواف کرنے آتے ہیں اور نفردوم تیرھویں بقر عید کو جب منٰی کے افعال سے فارغ ہوکر لوٹتے ہیں،یہاں نفردوم کے متعلق سوال ہے۔جب معلوم ہورہا ہے کہ حضور انور نے آج عصر محصب یعنی ابطح میں پڑھی اور گزشتہ حدیث سے معلوم ہوا کہ ظہر یہاں پڑھی،ہوسکتا ہے کہ آج تیرھویں کو بعد زوال رمی کی ہو اور عصر کے قریب یہاں پہنچ کر ظہر و عصر یہاں ہی پڑھی ہو۔
۴؎ یعنی اب جو امیر حج کرے تم بھی کرو،اگر وہ محصب میں ٹھہرے تم بھی ٹھہرو اگر نہ ٹھہرے تم بھی نہ ٹھہرو کہ ان کی مخالفت میں خطرہ ہے،یہاں ٹھہرنا واجب نہیں تاکہ ضرور کیا جائے۔(مرقات)
|
2666 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أسمح لِخُرُوجِهِ إِذا خرج |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ مقام ابطح میں اترنا سنت نہیں ۱؎ وہاں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اس لیے اترے تھے کہ آپ کی روانگی کے لیے آسان تر تھا ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی سنت مؤکدہ نہیں یا حج کی سنت نہیں جس کے چھوٹ جانے سے حج ناقص ہوجائے یا سنت ہدی نہیں بلکہ سنت زائد ہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر کام جو امت کے لیے لائق عمل ہو سنت ہے،اگر چہ حضور انور نے ایک بار ہی کیا ہو اور اگرچہ عادت کریمہ کے طور پر ہی ہو،ہاں جو خلاف اولٰی کام بیان جواز کے لیے کئے ہیں یا تعلیمًا کئے وہ اس سے خارج ہیں۔سنت کی پوری بحث مع اقسام کے ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم میں ملاحظہ کیجئے۔
۲؎ یعنی منٰی سے واپسی پر وادی محصب میں جسے ابطح بھی کہتے ہیں۔اترنا وہاں قیام یا آرام کرنا سنت حج نہیں،حضور انور نے اسی لیے وہاں قیام فرمایا کہ اس قیام میں اپنا سامان وہاں ہی چھوڑ دیا اور مکہ معظمہ جاکر طواف وداع کیا پھر اسی راستے سے مدینہ منورہ روانہ ہوئے راستہ میں یہاں سے اپنا سامان لے لیا،اس شرح کی بنا پر حدیث بالکل واضح ہے،اس میں کوئی ایچ بیچ نہیں۔خیال رہے کہ حضرات خلفائے راشدین وابن عمر وغیرھم رضی اللہ عنہم اس قیام ابطح کو سنت حج فرماتے تھے،ان کے نزدیک حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ارادۃً یہاں قیام فرمایا تھا تاکہ مشرکین کا رد عمل ہو اور خدا کا شکر کریں کہ کل تک یہاں اسلام کے خلاف بائیکاٹ کی کمیٹیاں ہوتی تھیں اور آج ہم آزادانہ یہاں نمازیں پڑھ رہے ہیں جیسے طواف میں رمل اور حضرت عائشہ صدیقہ ابن عباس،ابو رافع وغیرہم رضی اللہ تعالٰی عنہم کے ہاں یہ سنت حج نہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اتفاقًا یہاں قیام فرمایا تھا،یہ ہی قول امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا ہےمگر وہاں قیام اگر نصیب ہو تو بہتر ہے کہ اگرچہ یہ سنت حج نہیں مطلقًا سنت تو ہے۔(لمعات و اشعہ)
|
2667 -[9] وَعَنْهَا قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم بالأبطحِ حَتَّى فَرَغْتُ فَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ. هَذَا الْحَدِيثُ مَا وَجَدْتُهُ بِرِوَايَةِ الشَّيْخَيْنِ بَلْ بِرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ مَعَ اخْتِلَاف يسير فِي آخِره |
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میں نے مقام تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا پھر میں مکہ معظمہ آئی اپنا عمرہ پورا کیا ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مقام ابطح میں میرا انتظار فرمایا حتی کہ میں فارغ ہوگئی ۲؎ پھر لوگوں کو کوچ کا حکم دیا پھر آپ وہاں سے آئے تو بیت اﷲ شریف پر گزرے فجر سے پہلے اس کا طواف کیا ۳؎ پھر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے میں نے یہ حدیث مسلم،بخاری کی روایت سے نہ پائی بلکہ آخر میں تھوڑے اختلاف کے ساتھ ابوداؤد کی روایت سے پائی ۴؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع