30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ دارقطنی نے اپنے افراد میں حضرت عبداﷲ ابن عباس سے مرفوعًا روایت فرمایا کہ تواضع و انکسار سے یہ ہے کہ انسان مسلمان بھائی کا جھوٹا پانی پیئے،بعض روایات میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم مسلمانوں کے وضو سے بچا ہوا پانی پینا پسند فرماتے تھے،غرضکہ عمومًا اور حج میں خصوصًا اپنے کو بڑائی و فخر سے بچائے۔
۵؎ کیونکہ زمزم شریف کنوئیں سے نکالنا بھی عبادت ہے اور پلانا بھی عبادت۔خیال رہے کہ حضرت عباس زمزم کے منتظم تھے،ان کے ما تحت بہت سے لوگ پانی نکالتے اور پلاتے تھے،انتظام ان ہی کا تھا۔
۶؎ یعنی اگر ہم لوگوں کے سامنے زمزم بھرنا شروع کردیں تو لوگ اسی عمل کو سنت سمجھ کر اسی کام کے لیے دوڑ پڑیں گے،پھر ڈول رسی تمہارے ہاتھ نہ آئے گا اس لیے ہم یہ نہیں کرتے ورنہ دل چاہتا ہے کہ ہم بھی ڈول بھریں۔بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے ڈول بھرا اور ڈول سے ہی زمزم پیا پھرکچھ پانی ڈول میں ڈالا وہ ڈول کنویں میں ڈال دیا،یہ دوسرے موقعہ پر ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔(مرقات)علماءفرماتے ہیں کہ چاہ زمزم پر چڑھ کر اس میں جھانکنا نفاق کو دورکرتا ہے اورخود ڈول بھرنا بہت بہتر ہے اگر میسر ہو اس کی اصل بھی موجود ہے۔
|
2664 -[6] وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ ثُمَّ رَقَدَ رَقْدَةً بِالْمُحَصَّبِ ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مقام محصب ۱؎ میں ظہروعصر مغرب اور عشاء پڑھی پھر کچھ سوئے پھر بیت اﷲ کی طرف سوار ہوگئے تو اس کا طواف کیا ۲؎(بخاری) |
۱؎ محصب عربی میں کنکریلی زمین کو کہتے ہیں،اب ایک جگہ کا نام ہے جو مکہ معظمہ سے سے منٰی جاتے راستہ میں آتی ہے۔جنت معلے یعنی مکہ معظمہ کے قبرستان سے متصل ہے اسے بطح،بطحا اور خیف بنی کنانہ بھی کہتے ہیں۔یہ واقعہ تیرھویں ذی الحجہ کا ہے جب سرکار عالٰی منٰی سے فارغ ہو کر مکہ معظمہ واپس ہورہے تھے،طواف زیارت تو حضور انور دسویں ذی الحجہ کو ہی کرچکے تھے مکہ معظمہ پہنچنے کی جلدی نہ تھی،اگر رب نصیب کرے تو اب بھی محصب میں ٹھہرے۔
۲؎ یہ طواف وداع تھا جو مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانگی کے وقت کیا گیا،حضرت عبداﷲ ابن عباس فرماتے ہیں کہ محصب میں یہ قیام ارادۃً نہ تھا اتفاقًا تھا۔(بخاری)حضرت ابورافع فرماتے ہیں کہ مجھے حضور انور نے محصب میں خیمہ لگانے کا حکم نہ دیا تھا میں نے خود ہی اپنے طور وہاں خیمہ لگادیا اور سرکار نے وہاں قیام فرمایا۔(مسلم)حضرت اسامہ ابن زید فرماتے ہیں کہ حضور انور نے مجھ سے منٰی میں فرمایا تھا کہ ہم کل حنیف بنی کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے مسلمانوں کے بائیکاٹ پر حلف اٹھایا تھا،خلفائے راشدین بھی حج کے موقعہ پر اس تاریخ میں یہاں قیام فرماتے تھے۔مقصد تھا رب کی نعمت کا شکر کرنا کہ کل ہمارے بائیکاٹ پر یہاں حلف اٹھائے جاتے تھے اور آج ہم کو اﷲ نے یہاں آزادی بخشی ہے،ان روایات سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ محصب میں ٹھہرنا سنت ہے مگر واجب نہیں،میسر ہو تو بہت اچھا۔(مرقات و لمعات وغیرہ)
|
2665 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ: سألتُ أنسَ بنَ مالكٍ. قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يومَ الترويةِ؟ قَالَ: بمنى. قلت: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ. ثُمَّ قَالَ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ |
روایت ہے حضرت عبدالعزیز ابن رفیع سے فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک سے پوچھا میں نے کہا مجھے وہ چیز بتائیے جو آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے سمجھی یاد کی ہو،حضور انور نے آٹھویں بقرعید کو ظہر کہاں پڑھی ۱؎ فرمایا منٰی میں ۲؎ عرض کیا پھر واپسی کے دن عصر کہاں پڑھی فرمایا مقام ابطح میں ۳؎ پھر فرمایا جیسا تمہارے امیرکریں ویسا تم بھی کرو ۴؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع