دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۲؎ یعنی چونکہ میرے ذمہ کنوئیں سے آب زمزم نکالنے اور لوگوں کو پلانے کی خدمت ہے،لوگ ہر وقت خصوصًا طوافوں کے بعد اور خصوصًا ان دنوں میں طواف زیارت کے بعد زمزم پیتے ہیں اگر میں منیٰ میں رہوں تو یہ خدمت بخوبی انجام نہیں پاسکتا۔خیال رہے کہ یہ زمزم نکالنے اور پلانے کی خدمت قصٰے ابن کلاب کو ملی تھی،پھر ان کے بیٹےعبدالمناف کو، پھر ان کے بیٹے ہاشم کو،پھر ان کے بیٹے عبد المطلب کو ملی،پھر ان کے فرزند عباس کو منتقل ہوئی،ان سے عبداﷲ ابن عباس کو ان سے ان کے فرزند علی ابن عبداﷲ کو ملی اور اب تک یہ خدمت آل عباس ہی کے قبضہ میں ہے جیسے کہ کعبہ معظمہ کی کلید برداری طلحہ ابن عبداﷲ شیبی کی اولاد کے قبضہ میں ہے وہاں کی خدمات تقسیم ہوچکی ہیں،جو وراثۃً منتقل ہوتی ہیں۔

۳؎ خیال رہے کہ منٰی کے زمانہ میں راتیں منٰی میں گزارنا ہمارے ہاں سنت ہے،امام شافعی کے ہاں اکثر رات وہاں رہنا واجب مگر ان دونوں اماموں کے ہاں سخت مجبوری یا معذوری میں یہ حکم اٹھ جاتا ہے۔

2663 -[5]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقَى. فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ فَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا فَقَالَ: «اسْقِنِي» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ قَالَ: «اسْقِنِي» . فَشرب مِنْهُ ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا. فَقَالَ: «اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ» . ثُمَّ قَالَ: «لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ» . وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم زمزم کے سقایہ(مٹی)پر تشریف لائے پانی مانگا ۱؎ تو حضرت عباس نے فرمایا اے فضل اپنی والدہ کے پاس جاؤ ان کے پاس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے پانی لے آؤ ۲؎ حضور انور نے فرمایا مجھے پانی پلاؤ ۳؎ عرض کیا یارسول اﷲ اس میں لوگ ہاتھ ڈالتے ہیں فرمایا ہم کو پانی پلاؤ چنانچہ حضور نے اس ہی سے پیا ۴؎ پھر چاہ زمزم پر تشریف لائے جب کہ وہ پانی بھررہے تھے اور اس میں کام کاج کررہے تھے تو فرمایا کئے جاؤ تم لوگ اچھے کام میں لگے ہوئے ہو۵؎ پھر فرمایا اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مغلوب ہوجاؤ گے تو ہم خود اترتے حتی کہ رسی اس پر رکھتے اور اپنے کندھے کی طرف اشارہ کیا ۶؎(بخاری)

۱؎  اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ خود چاہ زمزم پر جانا اور پانی بھرنے والوں سے مانگ کر زمزم پینا بھی سنت ہے جیسے کہ گھر پر منگاکر پینا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ پانی وغیرہ مانگنا ممنوع نہیں اور یہ ان سوالات سے نہیں جن میں ذلت ہے اور جن سے شریعت میں ممانعت ہےمسوال ذلت اور ہے سوال خدمت کچھ اور۔غالبًا یہ واقعہ دسویں بقرعید کا ہے جب حضور انور منیٰ سے طواف فرمانے مکہ معظمہ تشریف لائے اور طواف کے بعد منٰی واپس ہوگئے اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ طواف زیارت کے بعد زمزم پینا سنت ہے۔

۲؎ یعنی اے فرزند فضل ہم نے تم لوگوں کے لیے زمزم اپنے گھر بھیج دیا ہے جس میں لوگوں کے ہاتھ نہیں پڑے ہیں کسی کے استعمال میں نہیں آیا،حضور انور کے لیے اس میں سے پانی لاؤ۔معلوم ہوا کہ زمزم شریف گھروں میں بھیجنا بھی سنت ہے جیساکہ اب بھی وہاں رواج ہے کہ حجاج کے ٹھکانوں پر معلم لوگ روزانہ زمزم بھجواتے ہیں اس کی اصل یہ حدیث ہے۔

۳؎ یعنی اسی سقایہ سے پلاؤ جہاں سے عام حجاج پی رہے ہیں تاکہ یہاں ہر بڑے چھوٹے کی برابری کا ظہور ہو۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن