30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اس ستون کا نام جمرہ اولٰی بھی ہے اور جمرہ دینا بھی کیونکہ مسجد حنیف سے قریب ہے،اسی کے قریب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حج میں قیام فرمایا تھا۔
۲؎ اس جمرہ کی رمی گیارھویں،بارھویں،تیرھویں بقرعید کو ہوتی ہے،دسویں کو صرف جمرہ عقبہ کی رمی ہے،ہرکنکری کے ساتھ تکبیرکہنا چاہیے نہ کہ بعد علی اثر سے یہ ہی مراد ہے،کنکری پھینکنے کی ابتداء اﷲ پر اور انتہاء اکبر ہوتی ہے لہذا علی اثر فرمانا درست ہے،صرف اﷲ اکبر کہنا کافی ہے،بعض حجاج بسم اﷲ اﷲ اکبر کہتے ہیں،بعض لوگ کچھ دعا بھی پڑھتے ہیں اس میں حرج نہیں۔(مرقات و فتح القدیر)
۳؎ یعنی زمین کے سخت حصہ پر کھڑے ہو کر تو رمی کرتے پھر بعد رمی وہاں سے ہٹ جاتے تاکہ دوسرے رمی والوں کے لیے جگہ خالی ہوجائے اور نرم حصہ میں آکر روبقبلہ ہو کر دیر تک دعائیں مانگتے رہتے،اب یہ ہی سنت ہے سورۂ بقرہ تلاوت کرنے کی بقدر کھڑے رہ کر دعائیں کرتے رہتے،اب لوگ مختصر ٹھہرتے ہیں۔
۴؎ رمی میں جمروں کی ترتیب احناف کے ہاں سنت ہے شوافع کاہاں واجب اور لگاتار رمی کرنا کے ہر جمرہ کی رمی دعا کے بعد فورًا دوسرے کی رمی کرنا احناف کے ہاں سنت ہے ،امام مالک کے ہاں واجب اسی لیے حجاج کو چاہیئے کہ ترتیب وار اور لگاتار ہی رمی کریں جیسے اعضا ء وضو کا دھونا ترتیب وار اور لگاتار چاہیئے۔
۵؎ جمرہ عقبہ کے سامنے کنارہ راہ پر نشیبی زمین ہے اور اس کے مقابل بلند زمین،سنت یہ ہے کہ نشیبی زمین سے رمی کرے تاکہ اوپر والی زمین پر کھڑے ہوئے آدمی کو کنکر نہ لگے،اوپر کی طرف سے رمی کرنے میں نیچے والوں کو لگ جانے سے تکلیف پہنچنے کا اندشیہ ہے،مگر یہ سنت ہے اگر کوئی بلندی کی طرف سے رمی کرے تو بھی جائز ہے،بعض صحابہ نے یہ کیا تو دوسرے حضرات نے اس پر ، نہ اعتراض کیا نہ اعادہ کاحکم دیا خود حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نشیبی زمین سے رمی کی مگر بلندی کی طرف سےرمی کی ممانعت نہ فرمائی لہذا حق یہ ہے کہ یہ سنت ہے اور وہ جائزہے۔ (مرقات)اس نشیبی زمین کا نام بطن وادی ہے۔
۶؎ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد وہاں نہ ٹھہرنا اور فورًا اپنی منزل وغیرہ پر آجانا سنت ہے یا اس لیے کہ یہ جگہ برسرراہ ہے یہاں کھڑا ہونا اور لوگوں کی تکلیف کا باعث ہے یا اس لیے کہ اب رمی کی عبادت ختم ہوچکی دوران عبادت کی دعا کافی ہوگئی یا اس لیے کہ حاجی پر رحمت الٰہی کا نزول ہوچکا ہے۔اب ٹھہرنے کی مشقت برداشت کرنا ضروری نہیں،بہرحال سنت یہ ہی ہے کہ اس رمی پر نہ ٹھہرے۔واﷲ و رسولہ اعلم!(مرقات)
۷؎ یعنی یہ مذکورہ عمل سنت رسول اﷲ بھی ہے اور سنت صحابہ بھی۔
|
2662 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ منى من أجلِ سِقايتِهِ فَأذن لَهُ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ حضرت عباس ابن عبدالمطلب نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے منٰی کی راتوں میں مکہ معظمہ رہنے کی اجازت مانگی ۱؎ زمزم پلانے کی وجہ سے ۲؎ تو حضور نے انہیں اجازت دے دی۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی عرض یہ کیا کہ میں گیارھویں،بارھویں،تیرھویں ذی الحجہ کو دن میں منٰی آکر جمروں کی رمی کر جایا کروں گا باقی اوقات مکہ معظمہ میں ہی رہوں گا،اس کی وجہ آگے آرہی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع