30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۲؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں تین چیزیں فرمائیں:اپنی تبلیغ پر تمام کو گواہ بنایا،اب بھی حجاج روضہ اقدس پر عرض کرتے ہیں یارسول اﷲ آپ نے پوری تبلیغ فرمادی یہ عرض اس سوال کا جواب ہے۔دوسرے تمام صحابہ کو احادیث کی تبلیغ کا حکم دیاعلماءکو چاہیے کہ دین چھپائیں نہیں،یہ حضور کی امانت ہے امت کے حوالہ کردیں۔تیسرے یہ کہ رحمت الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گام چمن اسلام میں پھول کھلتے رہیں گے میرے بعد بعض علماء آج کل کے بعض صحابہ سے زیادہ ذہین و نکتہ رس ہوں گے،رب نے اپنے حبیب کی اس بات کو کیسا سچا کیا۔سبحان اﷲ! چاروں امام مجتہدین دیگر فقہاء صوفیاء بعد میں پیدا ہوئے جنہوں نے ان ہی احادیث سے قیمی موتی نکالے دین کو واضح کردیا۔
|
2660 -[2] وَعَن وَبرةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ: مَتَى أَرْمِي الْجِمَارَ؟ قَالَ: إِذَا رَمَى إِمَامُكَ فَارْمِهِ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ. فَقَالَ: كُنَّا نَتَحَيَّنُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رمينَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت وبرہ سے فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا ۱؎ کہ میں جمروں کی رمی کب کروں فرمایا جب تمہارا امام رمی کرے تو تم بھی کر و۲؎ میں نے پھر یہ ہی سوال کیا تو فرمایا ہم وقت کے منتظر رہتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تو ہم رمی کرلیتے تھے ۳؎ (بخاری) |
۱؎ وبرہ ابن عبدالرحمن تابعی ہیں،حضرت ابن عمرو سعید ابن جیر سے روایات کرتے ہیں،آپ کی کنیت ابو خزیمہ حارثی ہے۔
۲؎ یعنی تم میں جب بڑے علماء رمی کریں تم بھی کرو،ہر مسئلہ پوچھنے کی ضرورت نہیں،علماء کی پیروی کرنا چاہیے،عالم کی پیروی کرنے والا رب سے سالم ہو کر ملے گا،یہاں یوم النحر کے بعد کی رمی کے متعلق سوال تھا جیساکہ جواب سے معلوم ہورہا ہے۔پتہ لگا کہ ہر بات عالم سے پوچھنا ہی نہ چاہیے بلکہ ان کو دیکھ کر بھی مسائل حل کرلینا چاہئیں،یہاں عالم باعمل کا ذکر ہے۔
۳؎ یعنی ہم دسویں بقر عید کے بعد کی رمی بعد نماز ظہر کیا کرتے تھے،یہاں بھی آپ نے صحابہ کا عمل ہی بتایا یعنی مسئلہ عمل علماء سے ثابت کیا۔رمی کے اوقات کا ذکر تفصیل وار پہلے ہوچکا ہے۔
|
2661 -[3] وَعَن سالمٍ عَن ابنِ عمر: أَنَّهُ كَانَ يَرْمِي جَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكبِّرُ على إِثْرَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ حَتَّى يُسْهِلَ فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ طَوِيلًا وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي الْوُسْطَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَأْخُذُ بِذَاتِ الشِّمَالِ فَيُسْهِلُ وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ثُمَّ يَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيَقُومُ طَوِيلًا ثُمَّ يَرْمِي جَمْرَةَ ذَاتِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ حَصَاةٍ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُولُ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَله. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت سالم سے وہ حضرت ابن عمر سے راوی کہ وہ قریبی جمرہ کی ۱؎ سات کنکروں سے رمی کرتے تھے ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے ۲؎ پھر آگے بڑھ جاتے حتی کہ نرم زمین میں آجاتے پھر رو بقبلہ دیر تک کھڑے رہتے ہاتھ اٹھائے دعا مانگتے۳؎ پھر درمیانی جمرہ کی سات کنکریوں سے رمی کرتے۴؎ جب بھی کنکری پھینکتے تو تکبیر کہتے پھر بائیں طرف ہٹ جاتے نرم زمین میں پہنچ جاتے روبقبلہ کھڑے ہوتے پھر ہاتھ اٹھائے دعاکرتے رہتے دیر تک کھڑے رہتے پھربطن وادی سے پیچھے والے جمرہ کو سات کنکریاں مارتے ۵؎ کہ ہرکنکری پرتکبیر کہتے تھے مگر اس کے پاس کھڑے نہ ہوتے تھے ۶؎ پھر واپس ہوجاتے حضرت ابن عمرفرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ عمل کرتے دیکھا ۷؎(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع