دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

حجامت کرے،ہمارے ہاں یہ ترتیب واجب ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس دن سو قربانیاں کی تھیں،۶۳  اپنے دست مبارک سے باقی ۳۷ سیدنا علی سے کرائیں۔

۲؎   اس سے معلوم ہوا کہ حجامت میں دایاں حصہ پہلے،بایاں حصہ بعد میں منڈانا چاہیے،امام ابوحنیفہ فرمایا کرتے تھے کہ نائی کا دایاں اور بایاں معتبر ہے کہ فاعل وہ ہے،اس صورت میں مخلوق کا بایاں پہلے منڈے گا دایاں بعد میں مگر یہ حدیث سن کر امام صاحب نے اپنے قول سے رجوع کرلیا اور فرمایا کہ حدیث قیاس پر مقدم ہے اگر نائی پیچھے کھڑا ہو کر حجامت بنائے تو دونوں کا دایاں بایاں ایک ہی سمت میں ہوگا۔(مرقات)حجامت کے بعد لب و داڑھی بنوانا،پھر ناخن ترشوانا سنت ہے۔(مرقات)

۳؎ اس موقعہ پر حضور انور نے اپنے ناخن شریف بھی لوگوں میں تقسم کرائے،یہ بال و ناخن تبرک کے لیے ساروں میں تقسیم کیے گئے، ان میں سے بعض حضرات تو یہ تبرکات اپنی قبروں میں لے گئے تاکہ وہاں کی مشکلات آسان ہوں جیسے حضرت امیر معاویہ و عمرو ابن عاص وغیرہم اور بعض حضرات چھوڑ گئے تاکہ قیامت تک مسلمان ان کی زیارت کرتے رہیں۔چنانچہ آج تک مختلف جگہ یہ بال شریف موجود ہیں اور ان کی زیارتیں ہورہی ہیں،صحابہ کرام ان بالوں کو پانی میں غوطہ دے کر دواءً پیتے تھے،حضرت شیخ نے یہاں ایک شعر لکھا۔شعر

مرا از زلف تو موئے سند است                                                فضولی مے کنم بوئے سند است

اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ انسان کے بال جدا ہوکر بھی پاک ہیں۔دوسرے یہ کہ اﷲ تعالٰی نے حضور کے بعض اجزاء بدن شریف محفوظ رکھے ہیں۔تیسرے یہ کہ بزرگوں کے تبرکات خصوصًا حضور کے بال و ناخن شریف سنبھال کر رکھنا،ان کی زیارت کرنا،ان سے شفا حاصل کرنا،ان کے توسل سے دعائیں مانگنا،قبر میں انہیں ساتھ لے جانا سب جائز و بہتر ہے کہ یہ تقسیم انہی مقاصد کے لیے ہوتی تھی۔اس کی تحقیق شامی اور ہماری کتاب"جاءالحق" حصہ اول میں ملاحظہ کیجئے اور ان شاءاﷲ اس شرح میں بھی اپنے موقعہ پر اس کا ذکر آئے گا۔

2651 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ أَنْ يُحْرِمَ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور بقر عید کے دن بیت اﷲ کے طواف سے پہلے وہ خوشبو ملتی تھی جس میں مشک ہوتا تھا ۱؎ (مسلم، بخاری)

۱؎  ا م المؤمنین اس میں ان لوگوں کی تردید فرمارہی ہیں جو کہتے تھے کہ بقر عید کے دن طواف زیارت سے پہلے حاجی کو خوشبو لگانا حلال نہیں طواف کے بعد حلال ہوگی،فرماتی ہیں کہ میں نے خود حضور انور کے کپڑوں میں طواف زیارت سے پہلے خوشبو ملی ہے۔معلوم ہوا کہ حاجی کو قربانی یا حلق سے ناقص تحلل حاصل ہوجاتا ہے جس سے بیوی بھی حلال ہوجاتی ہے۔خیال رہے کہ حضور انور نے حج تو صرف ایک ہی کیا مگر عمرہ چار کیے ہیں لہذا ام المؤمنین کا فرمانا کہ خوشبو ملتی تھی مجموعہ کے لحاظ سے ہے،لہذا حدیث واضح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔علما فرماتے ہیں کہ بہترین خوشبو مشک و گلاب ہے کہ اس میں مہک اچھی ہوتی ہے مگر رنگت نہیں ہوتی۔

2652 -[7]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رجعَ فصلّى الظهْرَ بمنى. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بقر عید کے دن طواف زیات کیا پھر لوٹ کر نماز ظہر منٰی میں پڑھی  ۱؎ (مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن