30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2636 -[10] وَعَن جابرٍ قَالَ: نحَرْنا مَعَ رَسولِ اللَّهِ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَة. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حدیبیہ کے سال سات آدمیوں کی طرف سے اونٹ اور سات کی طرف سے گائے ذبح کی ۱؎(مسلم) |
۱؎ یہ حدیث آئمہ کرام کی دلیل ہے کہ اونٹ و گائے میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں،جنہوں نے کہا کہ اونٹ میں دس اور گائے میں سات ان کے خلاف ہے۔خیال رہے کہ احناف کے ہاں بدنہ اونٹ و گائے دونوں کو کہتے ہیں،امام شافعی کے ہاں صرف اونٹ کو،بظاہر یہ حدیث ان کی دلیل ہے مگر عربی میں تجرید کر کے لفظ کو بعض معنی میں استعمال کرلیتے ہیں،یہاں ایسا ہی ہے کہ بدنہ سے مراد اس کا ایک فرد یعنی اونٹ لیا اور گائے کا ذکر علیحدہ کیا جب کہ یہاں ہی لفظ میں تضمین کرکے نحر و ذبح دونوں مراد لیے گئے،ورنہ نحر صرف اونٹ کا ہوتا ہے،گائے کو ذبح ہی کرنا چاہیے۔
|
2637 -[11] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن ابنِ عمَرَ: أَنَّهُ أَتَى عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ بِدَنَتَهُ يَنْحَرُهَا قَالَ: ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ ایک شخص پر گزرے جس نے ہدی کا اونٹ نحر کرنے کے لیے بٹھایا تھا فرمایا اسے اٹھا کر کھڑا کرو پاؤں باندھ دے،یہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ خلاصہ یہ ہے کہ اونٹ کی نحر سنت ہے اور ذبح خلاف اولیٰ۔نحر کا طریقہ یہ ہے کہ کھڑے اونٹ کا بایاں پاؤں رسی سے باندھ دیں،پھر سینے سے متصل گردن میں نیزہ ماریں اور اوپر کو کھینچیں تاکہ رگیں و حلقوم طول میں چر جائیں جب گرجائے تو استعمال کریں لیکن جسے نحر نہ آتا ہو وہ ذبح کرے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَیۡہَا صَوَآفَّ"کے معنے ہیں تین پاؤں پر کھڑا ہوا اور فرماتا ہے:" فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوۡبُہَا"جب اونٹ کی کروٹ زمین پر گرے۔معلوم ہوا کہ کھڑا کر کے نحر کرو،نحر کے بعد وہ گرے۔گائے بکری وغیرہ میں ذبح چاہیے،ذبح لٹا کر ہوتا ہے رگیں و حلقوم چوڑائی میں کاٹی جاتی ہیں۔(اشعہ و مرقات)
|
2638 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا قَالَ: «نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا» |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ آپ کے قربانی کے اونٹوں کا انتظام کروں ۱؎ اور ان کے گوشت کھالیں اور جھولیں خیرات کردوں ۲؎ اور یہ کہ ان میں سے قصائی کو کچھ نہ دوں فرمایا ہم قصائی کو اپنے پاس سے اجرت دیں گے ۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ واقعہ حج وداع کا ہے،حضور انور نے سو اونٹ قربان کیے تھے کچھ اپنے دست اقدس سے اور کچھ حضرت علی سے قربانی کرائے،ان اونٹوں کے متعلق یہاں ذکر ہے جو جناب علی سے قربانی کرائے گئے۔
۲؎ اب بھی قربانی اور ہدی وغیرہ کا یہ ہی حکم ہے،جھول سے مراد وہ جھولیں ہیں جو قربانی کے جانور کے لیے خریدی گئی ہوں یا اس کے ساتھ آئی ہوں اور اگر اپنے پالتو جانوروں کی جھول قربانی کے جانور پر عارضی طور سے ڈال دی تو وہ اپنی ملکیت ہے اپنے کام میں لائے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع