دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

2634 -[8]

وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عبدِ اللَّه سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوالزبیر سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر ابن عبداﷲ کو سنا کہ ان سے ہدی پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اس پر احتیاط و اعتدال سے سوار ہوجاؤ جب تمہیں اس کی ضرورت پڑے حتّٰی کہ دوسری سواری پالو ۲؎(مسلم)

۱؎ آپ کا نام محمد ابن مسلم ہے،تابعی ہیں،مکی ہیں،وسیع العلم عالم ہیں،آپ نے صرف حضرت جابر سے احادیث سنی ہیں، ۱۲۵ھ؁  میں وفات پائی۔

۲؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے کہ دو شرطوں سے ہدی پر سواری جائز ہے:ایک یہ کہ حاجی اس پر مجبور ہو،دوسرے یہ کہ احتیاط سے سواری کرے،اسے دوڑا کر یا مار پیٹ کر ناقص نہ کردے،بعض علماء کے ہاں اگر ناقص کردیا تو اس کا بدل نقصان خیرات کرنا پڑے گا،امام اعظم کے ہاں ہدی پرسامان لادنا ضرورۃً بھی جائز نہیں،امام شافعی،مالک و احمد علیہم الرحمۃ کے ہاں جائز ہے۔(مرقات)

2635 -[9]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةٌ عَشَرَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ: «انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أهل رفقتك» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضر ت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کے ساتھ سولہ ہدی کے اونٹ بھیجے کہ اسی شخص کو ان کا منتظم بنایا  ۱؎  اس نے عرض کیا یارسول اﷲ کہ ان میں سے اس کا کیا کروں جو تھک رہے ۲؎ فرمایا اسے ذبح کردو پھر اس کے جوتے اس کے خون میں رنگ دو پھر وہ جوتے اس کے کوہان کے حصہ پر رکھ دو ۳؎ اور اس سے نہ تم کھاؤ،نہ تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی کھائے ۴؎(مسلم)

۱؎ ان صاحب کا نام ناجیہ ابن جندب اسلمی ہے،ان کے ذمہ راستہ کی حفاظت اور وہاں پہنچ کر ذبح کا انتظام تھا،یہ واقعہ حضور علیہ السلام کے حج سے ایک سال پہلے ہی کا ہے جس میں ابوبکر صدیق امیر الحج تھے اور یہ صاحب امیر ہدی اس لیے فیہا فرمایا۔

۲؎ ابداع کے معنی ہیں تھک کر رہ جانا،اگر اس کے بعد ب آئے تو معنے ہوتے ہیں انسان کا بے سواری رہ جانا کہ وہ سواری پر تھا سواری چلنے کے قابل نہ رہی یہ پیدل رہ گیا اور اگر علٰی آئے تو معنی ہوتے ہیں جانور کا رہ جانا چونکہ یہ حضرت ہدی پر سوار نہ تھے اس لیے عَلَیَّ فرمایا یعنی اگر کوئی ہدی جانور راستہ میں تھک کر آگے چلنے کے قابل نہ رہے تو اس کا کیا کروں۔

۳؎ تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے علامت ہو کہ یہ ہدی کا جانور ہے تو کوئی امیر نہ کھالے فقراء کھائیں۔

۴؎  خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہدی کا جانور حرم شریف میں پہنچ کروقت پر ذبح ہو تو اسے ہدی والا بھی کھاسکتا ہے اور دوسرے امیروغریب بھی لیکن اگر راستہ ہی میں ذبح کرنا پڑ جائے تو ہدی والا بھی نہ کھائے،کوئی امیر بھی نہ کھائے،یہ صدقہ ہے صرف فقراء کھائیں جیسے قربانی کا جانور اگر قربانی کے دنوں میں ذبح ہو تو قربانی والا اور سارے مسلمان امیر و غریب کھائیں،اگر وقت سے پہلے ذبح کرنا پڑ جائے تو بعض صورتوں میں صرف فقراء کھا سکتے ہیں،قربانی والا اور امراء نہیں کھاسکتے اور بعض صورتوں میں اس کے احکام جداگانہ ہیں۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ناجیہ ابن جندب اور ان کے ساتھیوں کو کھانے سے اس لیے منع فرمایا کہ یہ سب حضرات غنی تھے ان میں فقیر کوئی نہ تھا۔(مرقات)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن