30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2631 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَأَهْدَاهَا فَمَا حَرُم عَلَيْهِ كانَ أُحِلَّ لَه |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے اپنے ہاتھوں سے نبی کریم کی ہدیوں کے ہار بٹے حضور نے انہیں پہنائے اور ان کا اشعار کیا اور ان کی ہدی بھیجی ۱؎ اس سے آپ پر کوئی حلال چیز حرام نہ ہوگی ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ واقعہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے حج سے ایک سال پہلے کا ہے جب آپ نے حضرت ابوبکر صدیق کو حج کے موقعہ پر مکہ معظمہ کچھ اعلانات کے لیے امیر حج بنا کر بھیجا۔
۲؎ ام المؤمنین کو خبر پہنچی تھی کہ سیدنا عبداﷲ ابن عباس ہدی بھیجنے والے کو محرم مانتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب تک مکہ معظمہ میں اس کی ہدی ذبح نہ ہوجائے تب تک یہ تمام ممنوعات احرام سے بچے ان کے جواب میں آپ یہ فرمارہی ہیں کہ ہدی بھیجنے سے انسان محرم نہیں ہوجاتا۔سیدنا عبداﷲ ابن عمر،عطاء،مجاہد،سعید ابن جبیر کا بھی یہی مذہب تھا،شاید ان بزرگوں کو یہ حدیث پہنچی نہیں۔
|
2632 -[6] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْهَا قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَهَا مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدِي ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي |
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں میں نے اپنے پاس کی اون سے ہدیوں کے ہار بٹے پھر حضور انور نے وہ مکہ معظمہ میرے والد کے ساتھ بھیج دیئے ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ پہلی حدیث کا ہی بیان ہے،آپ سے جناب مسروق و دیگر تابعین یہ مسئلہ پوچھنے آتے تھے تو آپ مختلف عنوان سے اسے بیان فرماتی تھی،صحاح،ستہ،بزاز،وغیرہ میں مختلف الفاظ سے یہ حدیث منقول ہے۔
|
2633 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ: «ارْكَبْهَا» . فَقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ: «ارْكَبْهَا» . فَقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ: «ارْكَبْهَا وَيلك» فِي الثَّانِيَة أَو الثَّالِثَة |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ ہدی کا ایک اونٹ ہانک رہا ہے ۱؎ فرمایا اس پر سوار ہوجا وہ بولا یہ تو بدنہ ہے۲؎ فرمایا سوار ہوجا وہ پھر بولا یہ بدنہ ہے تو دوسری یا تیسری بار میں فرمایا تجھ پر افسوس ہے ارے سوار ہوجا ۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ کیونکہ خود اس کے پاس سواری نہیں ہے پیدل چل رہا ہے،سخت مشقت میں ہے اور ہدی کو ہانکتا ہوا لے جارہا ہے۔
۲؎ یعنی ہدی ہے،ہدی کو بدنہ اس لیے کہتے ہیں کہ مسلمان ایسے جانور کو کھلاپلا کر خوب موٹا کر تے تھے جیسے آج بعض شوقین اپنی قربانی سال بھر تک کھلا پلاکر موٹی کرتے ہیں،بدنہ کے معنی ہیں ڈیل ڈار لحیم شحیم جانور اسی لیے بکری کو بدنہ نہیں کہتے صرف اونٹ یا گائے کو کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعٰٓئِرِاللہِ " الخ وہاں بھی اونٹ اور گائے ہی مراد ہے۔
۳؎ اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ بدنہ یعنی ہدی کے اونٹ پر سوار ہونا واجب ہے کیونکہ یہ امروجوب کے لیے ہے،بعض نے فرمایا مطلقًا جائز ہے،بعض نے فرمایا جائز ہے مگر اس شرط سے کہ اس سواری سے جانور میں عیب نہ پیدا ہوجائے مگر امام ابوحنیفہ و شافعی رضی اللہ عنہما کا مذہب یہ ہے کہ مجبورًا و ضرورۃً جائز بلا اجازت منع جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے یہاں پر وہ شخص مجبور و معذور تھا جیساکہ لفظ یَسُوْقُ سے معلوم ہورہا ہے۔(ازمرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع